Sangi سهيل سانگي

سهيل سانگي سنڌي ڪالم ۽ آرٽيڪل About Current political, economic media and social development issues

Wednesday, March 10, 2021

پیپلزپارٹی مائنس آصف زرداری ؟

 سابق صدر آصف علی زرداری کی سیاسی تنہائی اور مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔کہاں وزیراعظم لانے کے دعوا کر رہے تھے لیکن ملک میں انتخابی ماحول بنتے ہی غیر فعال ہوگئے۔آصف زرداری کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اور پاناما کی طرز پر جے آئی ٹی بنائی جارہی ہے۔سپریم کورٹ نے سابق صدرآصف زرداری،ان کی بہن فریال تالپورکو بارہ جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ آج کے سیاسی منظر نماے میں پیپلزپارٹی تنہا کھڑی ہے۔ ملکی سطح پر تین بڑے دھارے نواز لیگ، عمران خان اور ،مذہبی جماعتوں کے ہیں وہ کسی بھی دھارے کا حصہ نہیں۔ کبھی آصف علی زرداری نے علامہ قادری کے زریعے عمران خان سے جڑنے کی کوشش کی تھی لیکن کپتان خان نے اسٹیج شیئر کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حالیہ پیش رفت کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو سیاست سے مائنس کرنے کی کوششوں میں تیزی آگئی۔نتخابات کے شیڈول جاری ہونے سے قبل پنجاب اور خیبرپختونخوا کے طوفانی دورے کرکے جوڑ توڑ کررہے تھے۔ اپنی پارٹی کا وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ لانے کی باتیں کرنے والے آصف زرداری ملک میں انتخابی ماحول بنتے ہی غیر فعال ہوگئے ہیں۔ میدان میں بلاول بھٹو زرداری اکیلے نظر آرہے ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق ملکی سیاسی منظر نامے اور انتخابی میدان میں اہم ترین تبدیلیوں اور بڑے فیصلوں کا وقت ہے۔ پاکستانی سیاست سے ایک اور مائنس ون کی کوششوں کو تقویت دی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی مائنس زرداری کی صورت پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی ہمسفر بننے کا عندیہ دیدیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی سیاسی تنہائی اورپیپلزپارٹی کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔اب وہ پیپلزپارٹی کی سرگرمیوں،عوامی اجتماعات اور خود اپنے حلقہ انتخاب سے بھی دور ہیں۔آصف علی زرداری خود این ای213 نوابشاہ کی نشست پر امیدوار ہیں اور تاحال اپنے حلقہ انتخاب میں نہیں گئے ہیں۔ انکی ہمشیرہ اور اسی علاقے سے صوبائی نشست پر امیدوار ڈاکٹر عذرا فضل بھی محدود پیمانے پر انتخابی مہم چلارہی ہیں۔آصف علی زرداری نے اپنی سرگرمیوں کو محدود کرلیا ہے اور صرف ٹی وی پروگرامز تک محدود ہیں۔
عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کو پنجاب سے کوئی ہیوی ویٹ امیدوار نہیں مل سکے ہیں اور پیپلزپارٹی کا سیاسی کردار محدود ہوتا دکھائی دے رہاہے۔پیپلزپارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری حالیہ دنوں میں ذہنی دباو کا شکار ہیں اور سیاسی معاملات نتیجہ خیز انداز میں نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں جبکہ انکے دائمی امراض کی تکلیف بھی بڑھ رہی ہے ۔
بینکر حسین لوائی کی گرفتاری ایک اہم پیش رفت مانی جاتی ہے۔ اس کیس کو نتیجہ خیز انجام تک لے جانے کے جتن ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس ازخود نوٹس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے آصف زرداری اور سندھ میں ’’ آئرن لیڈی ‘‘سمجھی جانے والی ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت بیس افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ سات لوگوں کے نام پر قائم انتیس اکاؤنٹس سے 35 ارب سے زائد کی ٹرانزکشن ہوئیں۔سپریم کورٹ نے سابق صدرآصف زرداری،ان کی بہن فریال تالپور،طارق سلطان،ارم عقیل، محمد اشرف،محمد اقبال آرائیں اوردیگر افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ 
ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ طارق سلطان کے نام پر 5 اور ارم عقیل کے نام پر دو اکاؤنٹس ہیں۔ محمد اشرف کے نام پر ایک ذاتی اور 4 لاجسٹک ٹریڈ کے اکاؤنٹس ہیں، محمد عمیر بیرون ملک ہیں اور ان کا ایک ذاتی اور 6 اکاؤنٹس حمیرا اسپورٹس کے نام پر ہیں، عدنان جاوید کے 3 اکاؤنٹس لکی انٹرنیشنل کے نام پر ہیں، قاسم علی کے تین اکاؤنٹس رائل انٹرنیشنل کے نام سے ہیں۔ عدالت نے اسٹیٹ بنک کو نجی بینک کی جمع کرائی گئی سات ارب روپے کی ایکوٹی روکنے کا حکم دے دیا۔
اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین حسین لوائی اور نجی بینک کے نائب صدر طلحہ رضا جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے 7 ارب کی منی لانڈرنگ کی،4 ارب ریکور کر لئے ہیں۔ایف آئی اے کے مطابق سمٹ اور سندھ بینک سمیت تین بینکوں میں 29 جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے، یہ اکاؤنٹس انور مجید کے اومنی گروپ کے ملازمین استعمال کرتے تھے۔ صرف سمٹ بینک کے 16 اکاؤنٹس کے ذریعے 20? ارب کا لین دین ہوا۔
اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے پیسوں کے بارے میں ایف آئی اے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اکاؤنٹس کو پروجیکٹس سے ملنے والے کک بیکس لینے کیلئے استعمال کیا گیا۔ 
یہ تمام ملبہ زرداری پر گرنے والا ہے۔ لگتا ہے کہ سابق صدر آصف زراری اور ان کی ہمشیرہ کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے جارہا ہے۔
آصف زرداری نے معاملے کو بھانپ لیا تھا۔وہ اکتوبر سے نواز لیگ کے خلاف اسٹبلشمنٹ کا ساتھ دیتے رہے۔ عمران خان اورعلامہ ہ قادری سے بنانے کی کوشش کی۔ بلوچستان میں زہری کو حکومت توڑنے، عبدالقدوس بزنجو کی حکومت لانے اور سینیٹ اور اس کے چیئرمین کے انتخابات میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے رہے۔انہیں بانور کرایا گیا کہ عمران خان بطور وزیراعظم اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ نہیں۔ لہٰذا ایک بار پھرپیپلزپارٹی کو اقتدار میں آنے کا موقعہ دیا جائے گا۔ اس فارمولا کے حامیوں نے آصف زرداری کو ایوان صدر پہنچانے کا آئیڈیا مارکیٹ میں بیچنا شروع کردیا۔ بعد میں معاملات بگڑنے لگے تو آصف زرداری آئندہ حکومت اور سیٹ اپ میں اپنے سرکردہ رول سے دستبردار ہو گئے۔ اور کہا کہ پیپلزپارٹی اپوزیشن میں بھی بیٹھنے کے لئے تیار ہے۔یعنی پی پی پی کو آئندہ سیٹ اپ میں گیم سے آؤٹ نہ کیا جائے۔ 
یہ خیال مسلسل پختہ کیا گیا کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں مبینہ طور پر بڑی کرپشن ہوئی ہے اور یہ حکومتیں عوام کو ڈلیور نہیں کر سکی ۔ لہٰذا اب ان سے نجات کے لیے عمران خان کو اقتدار میں لانا ضروری ہے۔ ایک طریقہ یہ تھا کہ براہ راست مارشل لاء لگادیا جاتا۔ لیکن ایسے حالات نہیں۔ ادوسرا یہ تھا کہ ’’آئین میں رھتے ہوئے ‘‘ اقدامات کئے جائیں۔ لہٰذا عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے جو بھی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔یعنی عوام پر انحصار کے بجائے حربوں اور چند شخصیات پر انحصار کیا جارہا ہے۔کچھ لوگ اپنے تئیں طے کر لیتی ہیں کہ ملک کے مفاد میں کیا ہے؟ کیا نہیں؟ اور پھر اس پانے طے کردہ ملکی مفاد کے مطابق پورے نظام کو الٹ پلٹ دیتے ہیں۔ 
اس فارمولے کا ایک حصہ مشرف فارمولے کی نقل ہے، جس میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں آؤٹ تھیں۔ فرق یہ ہے کہ تب آئین معطل کردیا گیا تھا۔ براہ راست فوج حکومت میں آگئی تھی۔ مشرف نے بھی ان روایتی سیاست دانوں سے نجات حاصل کر نے کی ٹھانی تھی۔اس طرح کے براہ راست تجربے ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کر چکے ہیں۔جبکہ چھوٹے موٹے تجربے بعض مواقع پر کئے جاچکے ہیں۔ لیکن کبھی بھی ان کا اچھا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ 
نواز شریف نے’’ خلائی مخلوق‘‘ پر سیاسی انجنیئرنگ کا الزام لگایا تھا کہ ان کے ساتھیوں پر پارٹی چھوڑنے اور پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا تھاکہ یہ کیسی جمہوریت ہوگی، جب لوگ آزادانہ طور پر فیصلے نہ کر سکیں۔ اب یہی بات پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کہہ رہے ہیں کہ ایک مخصوص جماعت کو کامیاب کرانے کے لئے لوگوں پر پیپلز پارٹی کو چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو بھی اب کہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام پر اعتماد کیاجائے اور انہیں فیصلہ کرنے دیا جائے۔ دونوں جماعتوں کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔ یعنی دونوں جماعتوں کو آئندہ سیٹ اپ میں آؤٹ کیا جارہا ہے۔تعجب ہے کہ یہ سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی دونوں جماعتوں کی قیادت مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔
پیپلزپارٹی کے ایک اور ذریعہ کا کہنا ہے کہ مائنس ون کا مطالبہ زور پکڑتا جارہاہے اور امکان ہے کہ پیپلزپارٹی کو مائنس ون کا دکھ جھیلنا پڑے۔ ملک میں ایک نئے منظر نامے رونما ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔ جس کو جماعت اسلامی کے مولانا سراج الحق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’’ نواز لیگ، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم تینوں ناکام ہو چکی ہیں‘‘، ایم کیو ایم مائنس ون ہونے کے بعد گوپوں میں تقسیم ہو چکی، عدلیہ کے دو فیصلوں کے بعد نواز لیگ بھی مائنس ون ہو گئی۔ پیپلزپارٹی باقی تھی، اب اس کے خلاف بھی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔
خیال ہے کہ پیپلزپارٹی سے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مائنس کیا جارہا ہے۔اگر ایسا ہے تو پیپلزپارٹی کی عوام میں قبولیت بڑھ سکتی ہے۔ ایک مرتبہ اس قبولیت کا الیکشن میں فائدہ مل گیا، تو پھر پارٹی کی قیادت واپس بڑوں کے پاس چلی جائے گی۔ لیکن اسٹبلشمنٹ پیپلزپارٹی کو ایسا کوئی فائدہ دینا نہیں چاہے گی۔ 
حیران کن بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی سندھ میں اپنے امیدواروں کو دھمکیاں ملنے کا شکوہ کرچکے ہیں اورآصف زرداری بھی اپنے روایتی انداز سیاست میں کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اپنے دورہ کراچی میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مائنس زرداری کی صورت پیپلزپارٹی کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاسکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلوں کی منصوبہ بندی ہورہی ہے پیپلزپارٹی کے چند سینئر رہنماؤں کے بقول خطرے کی گھنٹی کی اواز سنائی دے رہی ہے۔ 
2018

Labels: , ,

Saturday, September 28, 2019

بلاول ڀٽو آخري آپشن ڇونه پيو استعمال ڪرڻ چاهي؟

بلاول ڀٽو آخري آپشن ڇونه پيو استعمال ڪرڻ چاهي؟: بلاول ڀٽو آخري آپشن ڇونه پيو استعمال ڪرڻ چاهي؟



بلاول ڀٽو آخري آپشن ڇونه پيو استعمال ڪرڻ چاهي؟


سياستدانن کي ممڪن آهي ته ڪا معلومات هجي ته ايندڙ ٽن مهينن ۾ ڪجهه ٿيڻ وارو آهي يا نه، پر هرڪو ڊسمبر جي ڳالهه پيو ڪري. عام ماڻهو وٽ به ان جي لاءِ ڪا پڪي پختي ڄاڻ ناهي، پر هڪ منطق ضرور آهي سا اها ته سياست ۽ معيشت جيئن هلن پيون تيئن وڌيڪ عرصو هلي نه سگهنديون. 
حڪومت گذريل چئن مهينن کان هر مهيني هڪ مخالف گرفتار ڪرڻ جي فارمولي تي هلي رهي آهي. 
نواز ليگ وٽان کيس ڪجهه وٺڻو ناهي، اها رڳو ماٺ ڪري ويهي تڏهن به حڪومت جو ڪم هلي ويندو. 
پيپلزپارٽي سان ٻيو حساب آهي. اتان وفاقي حڪومت توڙي پي ٽي آءِ کي ڪجهه نه ڪجهه وٺڻو آهي. وٺڻ لاءِ ارڙهين ترميم ۽ اين ايف سي ايوارڊ کان ويندي ڪراچي جا انتظامي اختيار ايتري قدر جو اهڙو مڪاني ادارن جو قانون به هتي لاڳو ڪرائڻو آهي جيڪو پي ٽي آءِ جي ايندڙ وقت جي گهرجن وٽان هجي. ان ڪري لڳي ٿو ته هن وقت پيپلزپارٽي ۽ وفاقي حڪومت جي وچ ۾ رائونڊ هلي پيو.

نواز ليگ خلاف اُپائن واراو معاملو في الحال ملتوي پيو لڳي. هڪ ڳالهه ضرور آهي ته نواز ليگ جي قيادت اهو ڏيکاءُ پئي ڏي ته، “اسان کي ڪا تڪڙ ناهي” ورنه ٽي مهينا کن اڳ تائين اهو تاثر جڙيو هو ته نواز شريف لاءِ جيل گهارڻ ڏکيو پيو ٿئي. ان لاءِ مريم بي بي اعلانيه چيو ته هوءَ پنهنجي پيءُ لاءِ ڪجهه به ڪري سگهي ٿي. نواز ليگ ان وقت صفا تحريڪ هلائڻ جي موڊ ۾ هلي ويئي هئي پر هاڻي ايئن نٿو لڳي. ايتري قدر جو عدالتن ۾ هلندڙ ڪيسن ۾ به اڳوڻي وزيراعظم جا وڪيل ڪن اهم نڪتن تي به ٽائيم وٺي رهيا آهن.

پيپلزپارٽي جي شريڪ چيئرمين آصف زرداري، سندس ڀيڻ فريال ٽالپر کانپوءِ پارٽي جو سرگرم اڳواڻ خورشيد شاهه گرفتار ٿي چڪو. سنڌ جي وڏي وزير مرادعلي شاهه جي گرفتاري لاءِ سانباها آهن. وفاق لاءِ سڀ کان اهم سوال آهي ته مراد شاهه جي گرفتاري بعد ڪهڙي ريت صورتحال کي پنهنجي حق ۾ ٺاهي سگهجي ٿو. ان گرفتاري کي ڪيئن پنهنجي فائدي لاءِ استعمال ڪري سگهجي ٿو. 

وڏو وزير نيب جي دٻاءُ هيٺ آهي،نتيجي طور خود سندس فيصلي ڪرڻ جي سگهه متاثر ٿي رهي آهي. ساڳئي وقت سندس هدايتن، حڪمن ۽ فيصلن تي عمل ڪرڻ جي حوالي سان وزيرن توڙي سرڪاري مشنري ۾ سرگرمي بدران سستي آهي. انتظامي مشنري کي ڪو ڊپ ناهي. وڏي وزير پاڻ شايد اهو نوٽ ڪيو آهي، تنهنڪري ئي هو پاڻ رستن تي نڪري آيو آهي. 
اها عام راءِ ٺهي آهي ته پي ٽي آءِ حڪومت سنڌ ۾ نيب هٿان ٿيل گرفتارين مان پنهنجا مقصد حاصل ڪرڻ گهري ٿي. اهڙين حالتن ۾ پيپلزپارٽي جو رول اهم بڻجي ٿو. ان جو ڪردار ئي طئي ڪندو ته ويجهي ماضي ۾ ڇا ٿيڻ وارو آهي.

پيپلزپارٽي اسلام آباد مارچ بابت آل پارٽيزڪانفرنس يا رهبرڪميٽي جو اجلاس سڏائڻ جي رٿ ڏني آهي. مولانا فضل الرحمان جي مارچ بابت پيپلزپارٽي اندر ٻه رايا آهن. هڪ اهو ته ان ۾ ڀرپور شرڪت ڪجي، ٻيو اهو ته اخلاقي حمايت ۽ علامتي شرڪت ڪجي. حالانڪه آصف زرداري ان مارچ جي مڪمل حمايت جي حق ۾ هو پر پوءِ هن فيصلو بلاول تي ڇڏي ڏنو. 
پيپلزپارٽي جو سينيٽر اعتزاز احسن پارٽي اندر خاص نقطهءِ نظر رکندڙن مان هڪ آهي. هو چوي ٿو ته، “عمران خان حڪومت کي معيشت، مهانگائي ۽ بيروزگاري مان خطرو آهي، اهڙي صورت ۾ اپوزيشن کي گهڻي محنت نه ڪرڻي پوندي.” هو شايد مولانا جي مارچ کي “گهڻي محنت” جي دائري ۾ ڳڻي ٿو. 
بهرحال پيپلزپارٽي جو مجموعي بيانيو اهو آهي ته حڪومت هلي نه پئي، مهانگائي جي طوفان ماڻهن کي خاص ڪري نوڪري وارن ماڻهن کي پنهنجي لپيٽ ۾ آڻي ڇڏيو آهي. ڌنڌا ڌاڙي بند آهن. نتيجي ۾ بيروزگاري وڌيل آهي.

بلاول ڀٽو جڏهن پارٽين کي پنج سال پورا ڪرڻ جو موقعو ڏيڻ جي ڳالهه ڪري ٿو، ان جي پويان اها منطق سمجهي پئي وڃي ته سندس خيال موجب رڳو سياسي پارٽين جي احتجاج يا دٻاءُ سان حڪومت نٿي بدلائي سگهجي. حڪومت تڏهن بدلبي جڏهن بدلائڻ وارن ان کي بدلائيندا. پيپلزپارٽي کي اهو به ڊپ آهي ته اهڙي ڪا حرڪت نه ڪجي جنهن سان سڄو نظام ئي ويڙهجي ٽپڙ ٽيشن تي ٿي وڃن ۽ ڪو نئون فارمولا ڊيزائين ڪري ملڪ تي مڙهي نه ڇڏين. 
پيپلزپارٽي جي ويجهن ذريعن جو چوڻ آهي ته پريشر وڌندو ته اتحادي حڪومت جو ساٿ ڇڏيندا، ممڪن آهي ته موجوده پارليامينٽ ۾ ئي واڳ ڌڻي پنهنجو پلان بي آڻين، ان ڪري مولانا وارو رستو ڇاڪاڻ جو آخري آپشن آهي، ان کي استعمال ڪرڻ جو اڃا وقت نه آيو آهي. ان جي بدران اپوزيشن جون پارٽيون پرامن ۽ پنهنجا پنهنجا جلسا ڪن، پوءِ وقت اچڻ تي حڪومت کي روانو ڪرڻ لاءِ سمورو زور لڳائي سگهجي ٿو. 

بلاول ڀٽو سکر ۾ ڳالهائيندي دراصل پارٽين جي الڳ الڳ جلسن واري لائين اختيار ڪئي آهي. هو چوي ٿو ته، “جنوري تائين حڪومت جو خاتمو نه آندو ويو ته جيالن سوڌو پنڊي پهچندس.” پنڊي مان ڪا ٻي معنيٰ به وٺي سگهجي ٿي. پر هن ان جي وضاحت ڪئي ته ذوالفقار ڀٽو کي پنڊي ۾ ڦاهي چاڙهيو ويو ۽ بينظير ڀٽو کي پنڊي ۾ قتل ڪيو ويو. اصل ۾ بلاول جي يو آءِ جي ان تنقيد جو جواب ڏنو آهي ته پيپلزپارٽي جا گرفتار ٿيل همراهه ٻاهر اچڻ گهرن ٿا ۽ آزاد اڳواڻ جيل نٿا وڃڻ گهرن، ان ڪري مولانا جي مارچ کان ڪيٻائين پيا. 
ان سان گڏوگڏ بلاول جي هن بيان ۾ اهو تاثر به موجود آهي ته احتجاج اسلام آباد ۾ ئي ڇو؟ پنڊي ۾ به ڪري سگهجي ٿو. اهو احتجاج جيالا ڪندا، يعني پيپلزپارٽي الڳ سرگرم هوندي جنهن لاءِ جي يو آءِ يا ٻئي ڪنهن کي سڏ نه ڏنو پيو وڃي.
اصل ۾ پيپلزپارٽي لاءِ سنڌ اهم محاذ آهي، اها پارٽي جي ڪمزوري به آهي ته مضبوط پوائنٽ به. هو سنڌ جي معاملي تي ڊنل آهي ته وري ان کان وفاقي حڪومت کي ڊيڄاري به رهي آهي
Bilawal, 2019, Zardari, Faryal, PPP,  PMLN, 

Labels: , , , , ,

Saturday, July 06, 2019

ڇا آصف، نواز ۽ ”رياست“ ۾ ڳالهيون ڪامياب ٿي سگهنديون؟


ڇا آصف، نواز ۽ ”رياست“ ۾ ڳالهيون ڪامياب ٿي سگهنديون؟
Zardari, Nawaz Sharif,, 2019, PPP_state Talks

ڇا آصف، نواز ۽ ”رياست“ ۾ ڳالهيون ڪامياب ٿي سگهنديون؟

هاڻي ڳالهه اتي وڃي بيٺي آهي ته آصف علي زرداري ۽ نواز شريف اڌ پئسا ڏين ته ڊالر هيٺ اچي ويندو. اهو وزيراعظم عمران خان پاڻ چيو آهي. هونئن بظاهر اهو جملو ٻٽي معنيٰ رکي ٿو پر سياست ۾ ايئن ئي ڳالهائبو آهي. ڪنهن ڏاهي چيو هو ته سياست سچ ڳالهائڻ جو ڏانءُ آهي. (Politics is the art of telling truth) ان جي هڪڙي ئي معنيٰ ورتي پئي وڃي ته ڪرپشن جي الزام هيٺ آيل ٻه وڏا سياستدان ۽ اڳوڻا حڪمران پئسو ڏين، مسئلو حل ٿي ويندو. ساڳئي وقت وزيراعظم سان اهو جملو منسوب ڪيو پيو وڃي ته انهن همراهن جي آزادي لاءِ ڪا سفارش نه هلندي. جڏهن انهن ٻنهي جملن کي گڏي پڙهجي ٿو ته ڏاڍو عجيب لڳي ٿو. اها ڳالهه عام آهي، ان تجربي مان ذري گهٽ هر پاڪستاني گذري چڪو آهي ته جڏهن ڪنهن سرڪاري آفيس ۾ ڪم ڦاسندو آهي ته چيو ويندو آهي ته، “سفارشون نه هلنديون، مال ڇڏايو.” بهرحال وزيراعظم ڪو رشوت نه پيو گهري پر اهو نيب جي ڄار ۾ ڦاٿل سياستدانن کي گس پيو ٻڌائي ته ڪيئن سندن جان بچي سگهندي. هونئن نيب قانون ۾ اها شق شامل آهي ته ڪو جوابدار جيڪڏهن “پلي بارگين” يعني سودي بازي ڪري ۽ هضم ٿيل رقم موٽائي ڏي ته سندس سمورا گناهه بخشجي ويندا. اسان اهو به ڏٺو آهي ته پلي بارگين ڪيل آفيسر واپس پنهنجي عهدن تي اچي نوڪري ڪرڻ لڳا آهن.
ڇا وزيراعظم جي ان ڳالهه کي پلي بارگين جي آڇ سڏي سگهجي ٿو؟ عام طور تي پلي بارگين نيب آڏو ٿيندي آهي پر جيئن ته هي سڀ ڪجهه اعليٰ سطح جو معاملو آهي ان ڪري وزيراعظم طرفان اهڙو اظهار ڪيو ويو آهي. ڪجهه هفتا اڳ اها ڳالهه هُلي پئي ته انهن ٻنهي اڳواڻن کي اڻ سڌي طرح اهڙي آڇ ڪئي ويئي هئي. هڪڙا چون ٿا ته معاملو ان تي اٽڪي پيو ته ڪل ڪيتري رقم واپس ڪرڻي آهي ۽ پهرين قسط ڪيتري هوندي. چوڻ وارا چون ٿا ته نواز شريف ذري گهٽ ان تي راضي به ٿي ويو هو پر مريم نواز اهڙي سودي بازي لاءِ تيار نه هئي. ساڳي صورتحال آصف زرداري جي لاءِ به ٻڌائي پئي وڃي. خيال آهي ته اها ڳالهه مڃڻ کان انڪاري ٿيڻ تي مني لانڊرنگ وارا ڪيس ٺهيا. بازار ۾ اهي ڳالهيون به ٿينديون رهيون ته جيڪي ڌوٻي ۽ ٽانگي وارن جي کاتن مان پئسا پئي نڪتا سي دراصل رقم واپس ڪرڻ جو هڪ طريقو هو. دليل اهو پئي ڏنو ويو ته “توهان کي پئسا واپس پيا ملن پوءِ خميسي خان جي کاتي ۾ اچن يا جمعي خان جي کاتي ۾.”
لڳي ٿو ته آءِ ايم ايف، ايشيائي بئنڪ کان ورتل قرض، سعودي عرب ۽ قطر کان اوڌر تي ملندڙ تيل توڙي انهن ٻنهي ملڪن طرفان اسٽيٽ بئنڪ وٽ ڊالر ڌراوت طور رکڻ جي باوجود ملڪي معيشت جو گاڏو نه هلبو. ڊالر ۽ مهانگائي کي ڇيڪ ڇڏيو ويو آهي، جن تي حڪومت ڪو چيڪ رکڻ جي پوزيشن ۾ ناهي. حڪومت چاهي ٿي ته پنهنجي نالائقي کي به اڳوڻن حاڪمن جي کاتي ۾ لکائي ڇڏي.هن ڀيري ڳالهين جي لوڙهه بجيٽ جي ڪري حڪومت کي هئي، پر ان جو اشارو شهباز شريف ۽ آصف زرداري ڏنو. حڪومت بجيٽ ته پاس ڪرائي ورتي، پر ان کي اها ڳالهه به سمجهه ۾ آئي ته اپوزيشن وڙهڻ جون ڌمڪيون ڀلي پئي ڏئي پر ان کي به ڪا لاچاري آهي جو ڳالهين لاءِ تيار آهي. بهرحال قومي اسيمبلي جي اسپيڪر اسد قيصر ٽياڪڙي ڪئي. هن ويچاري جو اوتروئي رول هو. باقي ڳالهيون سندس قدڪاٺ ۽ وس کان مٿي هيون. بعد ۾ اڻ سڌن طريقن، نياپن، اشارن ۽ اخباري بيانن ذريعي شرط شروط آيا. نواز ليگ لاءِ سڀ کان اهم معاملو ميان صاحب جي بيماري جو پرڏيهه ۾ علاج ۽ ٽيپ مان نڪرڻ آهي. ان بابت عدالت به کيس ڪو رليف نه ڏئي سگهي آهي جو اتي ڏنل درخواستون رد ٿي چڪيون آهن. پيپلزپارٽي جو معاملو آصف زرداري جي نيب جي تحويل آهي. انهن ٻنهي پارٽين “وڏن” جي چوڻ تي تحريڪ هلائي ۽ آل پارٽيز ڪانفرنس ۾ معاملي جو رخ چيئرمين سينيٽ کي هٽائڻ ڏي ڪري ڇڏيو. ان ذريعي انهن بجيٽ خلاف تحريڪ هلائڻ مان پنهنجي جان ڇڏائي پر ساڳئي وقت “وڏن” کي اهو نياپو ڏنو ته اسان وٽ ترڪش ۾ اڃا به ڪي تير آهن، کيڏڻ لاءِ ڪجهه ٻيا ڪارڊ به آهن.
آصف زرداري هاڻي چوي ٿو ته اسين عمران خان سان نه پر رياست سان ڳالهائينداسين. هن کان اڳ بلاول ڀٽو ۽ مريم نواز ٻئي اهو چوندا رهيا ته جن عمران خان کي آندو آهي صرف انهن سان ئي ڳالهيون ٿينديون، ڇاڪاڻ جو وزيراعظم عمران خان سان ڳالهائڻ بي فائده ٿيندو. مٿان وري آرمي چيف جو تازو بيان آيو، جنهن ماڳهين اپوزيشن پارٽين جي ان موقف کي هٿي ڏني ته اصل واڳ ڌڻين سان ئي ڳالهائجي. جيڪڏهن ٻن منٽن لاءِ فرض ڪجي ته نواز شريف ۽ آصف زرداري رقم موٽائڻ لاءِ تيار آهن، ايئن ڪرڻ کان پوءِ انهن سان ڪهڙو سلوڪ ڪيو ويندو؟ سندن سياست ۾ اهليت ۽ ٻين ڪيسن جو ڇا ٿيندو؟ خود سياست ۾ سندن رول ڪهڙو بيهندو؟ کين آزادي سان سياست ڪرڻ جي اجازت هوندي؟ پئسن ملڻ کان پوءِ واڳ ڌڻي عمران خان کي ايترو ئي سهارو ڏيڻ جاري رکندا؟ يا پئسن جي واپسي بعد ماڳهين منظرنامو ته تبديل نه ٿي ويندو؟ تجزيه نگارن جو خيال آهي ته جڏهن عمران خان چوي ٿو ته ڪو اين آر او نه ڏنو ويندو ته ان جو مطلب ته پيسن جي واپسي بعد به انهن سياستدانن جو رول ختم ڪرڻ آهي. ان ڪري اهي ٻئي پارٽيون اصل واڳ ڌڻين سان ئي ڊيل ڪرڻ چاهينديون. مطلب ڳالهه ٻولهه هلي پئي، مختلف آپشنز ۽ گسن تي ويچار ڪيو پيو وڃي. ايندڙ هفتي دوران ڪجهه وڌيڪ شيون سامهون اينديون ته پتو پوندو ته معاملو ڪهڙي رخ تي وڃي رهيو آهي، في الحال اپوزيشن وارو پاسو ڳرو آهي.

Labels: , , ,

Tuesday, June 11, 2019

زرداريءَ جي گرفتاري پي پي پي کي ڪيترو سياسي فائدو ڏيندي؟


آصف زرداريءَ جي گرفتاري پيپلز پارٽي کي سياسي فائدو ڏيندي؟




سڀني جو انتظار ختم ٿيو، پيپلزپارٽي جو شريڪ چيئرمين آصف زرداري گرفتار ٿي ويو. گرفتاري جو انتظار خود زرداري صاحب کي پاڻ کي به هو. حالتن جو رخ ڏسندي هو ٻه مهينا کن اڳ ذهني طرح تيار ٿي چڪو هو ته ڪيڏي به مهل کيس گرفتار ڪيو ويندو. هن کي پنهنجي مال ملڪيت توڙي پارٽي حوالي سان جيڪي هدايتون ڏيڻون هيون سي به ڏيئي ويٺي ڇڏيون هيون. اهڙي انتظار پارٽي ڪارڪنن توڙي رئيس وڏي پاڻ کي به ڄڻ ٿڪائي ڇڏيو هجي. روز ٿا ڳالهيون ڪن، اشارا پيا اچن ته بس اڄ يا سڀاڻ ٻڌون ٿا. زرداريءَ جي گرفتاري ۾ دير ان ڪري پئي ڪئي وئي جو قانون ۽ عدالت جا سمورا پاسا ڏسڻ سان گڏ ملڪ ۾ سياسي حالتن بابت به حڪومت ڪنهن مناسب وقت جي انتظار ۾ هئي.
زرداري جي گرفتاري ان ڪري به اڻ ٽر هئي ته وزيراعظم عمران خان جي اها شديد خواهش هئي ته نواز شريف ۽ زرداري ٻنهي کي گرفتار ڪري جيل ۾ وجهجي. هن اهو قدم کڻي ماڻهن کي توڙي وڏن کي ٻڌائڻ پئي گهريو ته ڏسو آئون ايڏو شينهن مڙس آهيان جو وڏن وڏن سياسي رانديگرن کي ٻڌي ڍير ڪريان پيو، هروڀرو توهان کي اهو ڊپ هو ته اهي پاپولر ليڊر ۽ وڏا گرگهه آهن. بهرحال ٻن وڏين پارٽين جي مک ليڊرن جي گرفتاري عمران خان جي وڏي سياسي اسڪورنگ ليکي ويندي.
هوڏانهن ڪالهه شهباز شريف لنڊن مان پهتو آهي ته ٻئي ڏينهن تي آصف زرداري جي گرفتاري ٿي آهي. جڏهن نواز شريف به لنڊن مان وطن ويو ته سياست ڇا چونڊن جا نتيجا ئي تبديل ٿي ويا هئا. شهباز جو واپس موٽڻ اهم آهي. هفتو کن اڳ اسلام آباد ۾ اهي ڳالهيون هُليون ته رڳو زرداري ئي نه پر، نواز ليگ مان شاهد خاقان عباسي ۽ حمزه شهباز به گرفتار ٿيندا. خيال آهي ته شايد شهباز شريف پٽس کي گرفتاري کان بچائڻ لاءِ آيو هجي. اها ڳالهه فطري لڳي ٿي پر ان ۾ سياسي پهلو به آهي. بلاول ڀٽي جي افطار پارٽي ۾ سمورين اپوزيشن پارٽين متحد ٿيڻ جو موڊ ڏيکاريو. مولانا فضل الرحمان کي آل پارٽيز ڪانفرنس جو اختيار ڏنو ويو. افطار پارٽي ۾ پارٽي جي سينيئر ليڊرن هوندي به عملي طور قيادت مريم نواز ڪري رهي هئي. ان کان اڳ جڏهن بدليل حالتن کي منهن ڏيڻ لاءِ پارٽي عهدن ۾ تبديليون آنديون ويون، پارٽي جنهن لائين وٺڻ جو اشارو ڏنو سو نواز شريف ۽ مريم نواز وارو بيانيو هو. يعني جهيڙي واري حڪمت عملي شهباز شريف جي مفاهمت واري عملي جي ابتڙ هئي. تازو وري نواز شريف پنهنجي ڌيءَ مريم نواز کي نياپو ڪيو ته جسٽس قاضي فائز عيسيٰ جي ريفرنس جي حوالي سان وڪيلن جو ساٿ ڏنو وڃي. اهڙي صورت ۾ نواز ليگ کي هن سڄي معاملي کان دور رکڻ لاءِ حمزه شهباز جي گرفتاري اڻٽر بڻجي رهي هئي، جيڪو اپريل جي پهرين هفتي کان آصف زرداري وانگر هر هفتي عبوري ضمانت ۾ توسيع واري عمل کان گذري رهيو هو.
ظاهر آهي ته پيپلزپارٽي آصف زرداري جي گرفتاري تي ماٺ ڪري ڪونه ويهندي، احتجاج ڪندي. فوري طور تي رڳو سنڌ ۾ پارٽي احتجاج جو سڏ ڏنو آهي، جڏهن ته مصطفيٰ کوکر بلاول ڀٽو جي ترجمان طور ڪارڪنن کي پرامن رهڻ لاءِ چيو آهي يعني سنڌ کان علاوه في الحال احتجاج نه ڪيو وڃي. سنڌ کي ڇڏي باقي ملڪ ۾ پيپلزپارٽي ٻين اپوزيشن پارٽين سان گڏجي احتجاج ڪرڻ گهري ٿي خاص ڪري نواز ليگ ته لازمي طور هجي ئي هجي ڇاڪاڻ جو پيپلزپارٽي جي حڪمت سازي ڪندڙن کي ڄاڻ آهي ته ڳالهه تيستائين مزو نه ڪندي جيستائين نواز ليگ به ان ۾ شامل نٿي ٿئي.
هونئن ملڪي صورتحال جو زائچو ڪجهه ايئن آهي ته ڪو انتظام نظر نٿو اچي. بدترين گورننس، ناتجربيڪاري، معيشت جي بدحالي عام ماڻهو لاءِ جيئڻ جنجال ڪري ڇڏيو آهي. ترقياتي رٿائون ٺپ آهن، ڊالر بي قابو، بيرروزگاري ۾ اضافو، صنعتون بند، سيڙپڪار گم آهن، پارليامينٽ بي معنيٰ بڻيل آهي. ڊيپوٽيشن تي آيلن ذريعي حڪومت هلائي پئي وڃي، سياسي ماحول به ڪو چڱو ڪونهي. اختر مينگل چوي ٿو ته هو بجيٽ جي منظوري ۾ حڪومت جو ساٿ نه ڏيندو. پي ٽي آءِ اندر اختلافن ڪرُ کنيو آهي. پارٽي جو ترجمان ايتري قدر جو پرڏيهي وزير شاهه محمود قريشي به وضاحتون ڪندو ٿو وتي ته وزيراعظم عمران خان ئي رهندو.
هڪ نظر ۾ ڏٺو وڃي ته اها سڄي صورتحال ماحول کي سازگار بڻائي ٿي ته اپوزيشن جي اي پي سي نهايت سولائي سان حڪومت ڊاهڻ بابت حڪمت عملي جو فيصلو ڪري ڇڏي. اپوزيشن جي ذريعن موجب پهرين مرحلي ۾ پارليامينٽ جي ٻاهران احتجاج ڪيو ويندو. ٻئي مرحلي ۾ عوام کي سرگرم ڪرڻ لاءِ ملڪ ۾ جلسا جلوس ڪيا ويندا. ٽئين مرحلي ۾ ماڻهن کي اسلام آباد پهچڻ جو سڏ ڏنو ويندو. لڳي ٿو ته ان کان اڳ جو اپوزيشن منظم ٿي ڪا شڪل اختيار ڪري، احتجاج جي ڀرپور حڪمت عملي جوڙي وٺي، حڪومت آصف زرداري کي گرفتار ڪري ورتو ۽ حمزه شريف جي گرفتاري جو ڊپ ڏئي شهباز شريف کي به وطن ورڻ تي مجبور ڪري ورتو. مولانا فضل الرحمان اي پي سي جون جي ٻئي ٽئين هفتي ۾ ٿيڻي آهي. في الحال ڪوشش ڪئي ويئي ته نواز ليگ اپوزيشن سان منظم نه ٿئي ۽ اهو به ته پيپلزپارٽي احتجاج ڪري ته اڪيلي سر ڪري. اهو حڪومت جو خيال آهي ته ايئن پيپلزپارٽي اڪيلي ٿي ويندي. جيڪڏهن پيپلزپارٽي اڪيلي ٿي بيهي ٿي ته ان کي مارڪٽ ڪرڻ ته سولو آهي، ساڳئي وقت تي ويجهڙ ۾ حڪومت خلاف اپوزيشن جي تحريڪ به نه اڀري سگهندي.
هتي ٻه ڳالهيون تمام اهم آهن، هڪ سنڌ جي عام راءِ، ان مان مطلب سماج ۾ اثر رکندڙ اهڙا گروپ يا ماڻهو جيڪي هونئن پيپلزپارٽي ۾ ناهن پر ڏکئي وقت تي پارٽي جو ساٿ ڏين ٿا. ڇاڪاڻ ته اهي عمران خان ۽ ان جي پاليسين کي بنهه درست نٿا سمجهن، هن کي سنڌ لاءِ ڌاريو ٿا سمجهن. ان جي ڀيٽ ۾ سمورين براين ۽ تنقيدن جي باوجود پيپلزپارٽي بطور پارٽي بهتر سمجهن ٿا. اهي ئي ماڻهو يا گروهه عام راءِ جوڙين ٿا. انهن جو رول نهايت اهم بڻجي ٿو. لڳي ٿو ته اهي پيپلزپارٽي سان بيهندا. وڏو امتحان خود سنڌ حڪومت لاءِ آهي، جيڪا وفاقي حڪومت جي بيوقوفين سبب اهو تاثر ڏيڻ ۾ ڪامياب ويئي آهي ته عمران خان جي حڪومت ناڻي ۽ ترقياتي رٿائن ۾ سنڌ کي نظرانداز ڪري رهي آهي ۽ ان جو جائز حصو نه پيو ڏنو وڃي. سنڌ حڪومت جي اها حڪمت عملي سياسي طور پارٽي کي ته فائدو ڏيندي پر ڇا اهو پنهنجو پاڻ به بچائي سگهندي؟ پيپلزپارٽي جي سنڌ ۾ حڪومت جي موجودگي پارٽي کي تحريڪ دوران فائدو ڏئي سگهي ٿي، ان ڪري موڊ تي هلندڙ وفاقي حڪومت ڪا وڌيڪ بيوقوفي به ڪري سگهي ٿي.

https://www.pahenjiakhbar.com/articles/آصف-علي-زرداريءَ-جي-گرفتاري-پيپلز-پارٽ/?fbclid=IwAR0YJ0mZ8A5wnKTNjfo2rKhJbikoucpWDYmFqJidVkU-8etTPsl2zSMjdKU

Labels:

Thursday, May 09, 2019

نواز ليگ ۽ پ پ قيادت جي جبري ريٽائرمينٽ بدران “گولڊن ھينڊ شيڪ”؟



نواز ليگ ۽ پ پ قيادت جي جبري ريٽائرمينٽ بدران “گولڊن ھينڊ شيڪ”؟


ھاڻي 8-9 مھينا ٿيڻ وارا آھن جو پيپلزپارٽي ۽ نواز ليگ جو گھيرو سوڙھو ڪيو پيو وڃي. ھر گذرندڙ ڏينھن مان لڳي ٿو تھ ٻن وڏين ۽ ويجھي ماضي جي حڪمران جماعتن کي “کُڏي لائين” لڳايو پيو وڃي. صورتحال کي اوڏانھن ڌڪيو پيو وڃي جو ٻنھي جماعتن جا وڏا آصف علي زرداري ۽ ميان نواز شريف سياست مان ريٽائر ٿي وڃن يا وري جيل ۾ وڃن. نواز جي ڪيس ۾ اھو عمل ذري گھٽ پورو ٿي ويو آھي. نواز شريف ضمانت جو مدو پورو ٿيڻ بعد جيل ڀيڙو ٿي چڪو آھي، پارٽي ۾ نوان عھديدار چونڊيا ويا آھن. جيتوڻيڪ شھباز شريف اڃان تائين پارٽي جو صدر آھي ۽ اپوزيشن ليڊر آھي پر حالتون توڙي تجزيا نگار ٻڌائين ٿا تھ وٽس اھي ٻئي عھدا بھ رسمي طور آھن. عملي طرح ھو بھ انھن عھدن جون ذميواريون پارٽي جي “نئين قيادت” جي حوالي ڪري چڪو آھي. جيئن نواز شريف پارٽي جي سرپرست طور آھي، شھباز شريف لاءِ بھ ڪا اھڙي جاءِ ڳولي پئي وڃي. مريم نواز ۽ حمزه شريف سان گڏوگڏ خواجا آصف، شاھد خاقان عباسي، رانا تنوير، احسن اقبال کي عھدا ۽ ذميواريون ڏنيون ويون آھن.
ھاڻي پيپلزپارٽي جو وارو آھي. اھو ئي سمجھيو پئي ويو. پيپلزپارٽي جي قيادت خلاف ڪارروائي رمضان جي ڀلاري مھيني کان اڳ ٿيڻي ھئي، پوءِ آءِ ايم ايف سان ھلندڙ ڳالھين جي ڪري خيال آھي تھ اھو ڪم عيد کان پوءِ ٿيندو. مکيھ ڪيس ڪوڙن بئنڪ اڪائونٽن ۽ مني لانڊرنگ وارو آھي پر ان سان گڏ ھڪ ٻھ ڪيس ٻيا بھ تيار ڪري رکيا پيا وڃن، بلڪل ايئن جيئن نواز شريف سان ڪيو ويو تھ متان ھڪ ڪيس ۾ ڪو قانوني جھول نڪري اچي يا ڪو جج فيصلي کي تبديل نھ ڪري وجھي، اھڙي صورت ۾ ٻيو ڪيس تيار ھجي. ٻنھي پارٽين خلاف وڌيڪ ڪاررواين کان اڳ گذريل ڊسمبر ۾ اھا رپورٽ آئي تھ ملڪ ۾ ڪل 79 سياستدان خلاف ڪرپشن جا ڪيس آھن، جن ۾ ٽيھه پنجٽيھه سيڪڙو پيپلزپارٽي جا آھن، جڏھن تھ نواز ليگ جا ٻاويھه کان پنجويھه سيڪڙو، تحريڪ انصاف جا 13 سيڪڙو اڳواڻ آھن. ان کان علاوه ڪجھه سرڪاري ملازمن ۽ واپارين وغيرھ تي بھ ڪيس آھن. جيڪا ڪارروائي ٿي رھي آھي، اھا ٻنھي پارٽين جي قيادت خلاف ٿي رھي آھي. نواز ليگ ۾ نواز شريف ۽ شهباز شريف، پيپلزپارٽي ۾ آصف زرداري ۽ فريال ٽالپر نشاني تي آھن. ٻيا جيڪڏھن آھن تھ اھي ڪارروائي ھيٺ ساڳئي ڪيس ۾ ملوث ٿيل آھن. اھو ئي سبب آھي جو ھن احتساب کي “سليڪٽيڊ” احتساب سڏيو پيو وڃي. ھونئن پيپلزپارٽي ۽ نواز ليگ جا ماڻھو ڪرپشن جي الزام ھيٺ ان ڪري بھ آھن جو ماضي ۾ اھي ئي ٻھ پارٽيون حڪومت ۾ رھيون آھن، تحريڪ انصاف کي تھ ھاڻي وارو مليو آھي.
سڌ سماءُ وارو اڳوڻو وزير فواد چوڌري گذريل ڊسمبر کان اھو چوندو اچي تھ “زرداري ۽ نواز شريف ٻنھي جون جائدادون ضبط ٿينديون ۽ اھي جيل ويندا. انھن جي سياست ختم ٿي چڪي آھي.” انھن ئي ڏينھن ۾ آصف علي زرداري ٽن سالن واري مدت رکندڙن جو ذڪر ڪيو. ھن چيو ھو تھ مقرر مدت وارا اچڻا وڃڻا آھن، ميدان ۾ رڳو سياستدان ئي مستقل رھي ٿو. عدليھ ھجي يا عسڪري ادارو، انھن ٻنھي ھنڌن تي عھدي جي مدت يا عمر جي حد مقرر آھي جنھن بعد اُتان جو ماڻھو ريٽائر ٿئي ٿو ۽ ان جي ڪا بھ مزاحمت نٿي ٿي. انھن ٻنھي ادارن ۾ ويٺل آفيسر پنھنجي پاڻ کي سياستدانن کان مٿانھون سمجھن ٿا، ڇاڪاڻ جو ھو سمجھن ٿا تھ پيشي جي لحاظ کان انھن ٻنھي باقاعدھ سکيا ورتي آھي ۽ ھڪ نقطي تي اچي کين ريٽائر ٿيڻو آھي.
سياستدان جو معاملو ان کان مختلف ھوندو آھي. سياست ملڪي حالتن جو مطالعو گھري ٿي. سماج کي سمجھڻو پوندو آھي، ايڊجسٽمينٽ ۽ اڪوموڊيٽ ڪرڻو پوندو آھي، تنھنڪري سياستدان ٿيڻ ۾ وقت لڳندو آھي. ان لاءِ سھپ وڏي کپي. سياست پنھنجي جوھر ۾ ڪو پيشو يا نوڪري ناھي، اھا بنيادي طور تي خدمت آھي. سياستدان ھٿ ٺوڪيا يا پاڻمرادو نه ھوندا آھن، بلڪه اهي مقبول ھوندا آھن. ھو ھڪ اليڪشن ۾ جيڪڏھن ھارائي اقتدار کان ٻاھر ھليا ويندا آھن تھ ٻي اليڪشن کٽي وري حڪومت ۾ اچي ويندا آھن. سڄي دنيا ۾ سياست ۽ سياستدانن جو معاملو ايئن ئي ھلندو آھي. مسئلو اھو آھي ته سياست ۽ باقي ٻن ادارن جي پاڻ ۾ ڀيٽ ڪرڻ يا ان ڏس ۾ ڪا مزاحمت ڪرڻ سبب ئي ھر ڏھين پندرھين سال سياستدانن جي ڇنڊڇاڻ جو ڪارڻ بڻجي ٿي.سياستدانن ۽ عدليھ توڙي عسڪري اداري ۾ ٻيو فرق اهو بھ آھي تھ ملڪ جا اڄوڪا ٻھ چوٽي جا سياستدان نواز شريف ۽ آصف علي زرداري اڃان تائين سياست جي ميدان ۾ بيٺا آھن. انهن ٻنهي جي حڪمراني دوران ڪيترائي چيف جسٽسز صاحبان ۽ آرمي چيفس آيا ۽ مدو پورو ٿيڻ بعد ريٽائر ڪري ويا. ھڪ ٻيو دلچسپ پھلو اھو بھ آھي تھ سياستدان پنھنجي سياسي وراثت پنھنجي اولاد کي ڏيئي سگھن ٿا، بلڪه ڏني اٿن.
ھاڻي جيڪو فارمولا ٺاھيو ويو آھي سو اھو تھ نواز شريف ۽ آصف زرداري ٻئي سياسي ميدان کان آئوٽ ٿي باقاعدھ ريٽائرمينٽ جو اعلان نھ ڪن تھ پوءِ جيل ۾ وڃي مرحلي وار ريٽائرمينٽ جو گس وٺن. ٻنھي اڳواڻن وڏا وس ڪيا پر ٻنھي خلاف ڪرپشن جو تکو ھٿيار استعمال ٿي رھيو آھي، ھي اھڙو ھٿيار آھي جنھن کي عوام ۾ مقبوليت بھ حاصل آھي. جڏھن عام ماڻھو ڳالھائيندو آھي تھ چوندو آھي تھ “زرداري صاحب ۽ ميان صاحب اقتدار جا مزا ورتا، ھاڻي ڪُنڊڙي وٺي الله الله ڪن. سياسي وراثت اولاد حوالي ڪن.” پر اقتدار عجيب نشو ھوندو آھي. مغل شھنشاھھ اورنگزيب جا قصا تاريخ جو حصو آھن پر تاريخ ۾ اھڙا انيڪ مثال آھن. نواز شريف ۽ آصف زرداري پنھنجي اولاد لاءِ سياست نھ پيا ڪن. حقيقت اھا آھي تھ انھن پنھنجي سياست لاءِ پنھنجي اولاد بلاول ڀٽو ۽ مريم نواز کي ميدان ۾ لاٿو آھي، انهن جي باقاعدھ تربيت ڪئي آھي ۽ ھاڻي انھن ٻنھي وٽ پارٽي جا مکيھ عھدا بھ آھن. اھا الڳ ڳالھھ آھي تھ اھي ٻئي پارٽيون توڙي زرداري ۽ نواز شريف خود پنھنجي طور تي الڳ الڳ ماڊل آھن. ھن وقت آصف علي زرداري بظاھر سياسي منظرنامي کان ٻاھر آھي، جڏھن تھ بلاول ڀٽو زرداري ڏاڍا ريڊيڪل بيان ڏئي رھيو آھي. گذريل ٻن ٽن مھينن کان اھو پيو لڳي تھ بلاول مڪمل طور پارٽي جون واڳون سنڀالي ورتيون آھن يعني پارٽي قيادت ۽ پارٽي ذھني طور فيصلو ڪري ورتو آھي تھ ايندڙ وقت ۾ پارٽي بلاول ھلائيندو، زرداري پاڻ کي پارٽي مان ايئن دستبردار ڪندو، جيئن نواز شريف ڪيو. يعني ملڪ جون ٻھ مکيھ پارٽيون “اولڊ گارڊز” جي بدران نئين نسل جي قيادت ۾ ھونديون. جيئن نوڪري ۾ جبري ريٽائرمينٽ ٿيندي آھي. تيئن اڄ جي ڪارپوريٽ ڪلچر ان جو ھڪ مھذب نالو رکيو آھي جنھن کي “گولڊن ھينڊ شيڪ” چيو ويندو آھي. اھڙي ريت پيپلزپارٽي ۽ نواز ليگ پاران پراڻي قيادت کي “جبري ريٽائرمينٽ” نھ پر گولڊن ھينڊ شيڪ ڏنو ويو آھي ته اهي ٻئي سياسي ميدان کان ٻاھر رھن، انھن جي بدران مريم نواز ۽ بلاول ڀٽو ڀلي سياست ڪن.

PPP, NawazSharif,Golden handshake, PMLN, zardari, Retirement, 2019, Pahenji Akhbar,
https://bit.ly/2DZGXkq

Labels: , , , , , , ,

Wednesday, April 10, 2019

پيپلز پارٽي لاءِ ”سودو“ مهانگو ڪونهي!


پيپلز پارٽي لاءِ ”سودو“ مهانگو ڪونهي!

نوازشريف ۽ شهباز شريف جي گرفتارين توڙي کين بعد ۾ رليف ڏيڻ کانپوءِ هاڻي سياست جو ميدان جنگ سنڌ بڻجي رهي آهي، ملڪ جي هڪ مک مخالف ڌر جي جماعت پيپلز پارٽي جي قيادت سنڌ مان آهي، ان جي هن صوبي ۾ حڪومت به آهي ۽ حمايت به. اسلام آباد ۽ لاهور جون ڌريون پيپلز پارٽي کي سنڌ جي پارٽي سمجهن ٿيون، سنڌ جا ماڻهو پيپلز پارٽي سان ناراضگي ضرور رکن ٿا، پر آخري وقت تي پاسو پيپلز پارٽي جو ئي کڻن ٿا، ڇاڪاڻ جو انهن جي ويجهو بحث ۽ عمل جي آخري نتيجي ۾ ان کان بهتر ٻي ڪا پارٽي موجود ناهي. هنن ڏٺو ته سنڌ جي قومپرستن ۾ پارليماني افعال ۽ ٻڌي ڪونهي، پنجاب ۾ بنياد رکندڙ پارٽيون پوءِ اها نواز ليگ هجي يا تحريڪ انصاف، سنڌ کي ليکي ۾ نٿي آڻي. ايتري قدر جو انهن پارٽين جي حمايت ڪندڙن ۽ پارٽي ليڊرن کي پارٽي قيادت توڙي وفاقي حڪومت ۾ لفٽ ناهي.

آصف علي زرداري، بلاول ڀٽو، فريال ٽالپر جي راولپنڊي ۾ نيب طلبي ۽ سوالنامه ڏيڻ بعد هاڻي نيب مني لانڊرنگ ۽ ڪورٽ بئنڪ اڪائونٽس وارو ريفرنس احتساب عدالت ۾ داخل ڪيو آهي، جنهن جي ڪالهه ٻڌڻي ٿي. ٻڌڻي جي موقعي تي آصف علي زرداري ۽ فريال ٽالپر پيش ٿيا، جنهن ۾ عدالت سندن حاضري کان ڇوٽ واري درخواست رد ڪري ڇڏي. هاڻي اها ٻڌڻي 16 اپريل تي ٿيندي، بلاول ڀٽو کي في الحال احتساب عدالت نه گهرايو آهي پر اطلاعن موجب جاچ جو دائرو وسيع ڪيو ويو آهي، جنهن جي لپيٽ ۾ سنڌ جو ڪو وڏو وزير ۽ ڪامورا به اچي سگهن ٿا
.
گذريل ٻن مهينن کان نيب پيپلز پارٽي جي قيادت جي گرفتاري جا سانباها ڪري رهي هئي، ان عرصي دوران پارٽي قيادت عوامي سطح تي توڙي لابنگ ۾ وڏي پيماني تي سرگرمي ڏيکاري. آصف علي زرداري توڙي بلاول ڀٽو سڌي طرح سنڌ جي ماڻهن ۽ صوبي ۾ اثر رکندڙ اسيمبلي ميمبرن سان رابطا ڪيا، جلسا ڪيا، بلاول ڀٽو ٽرين مارچ ڪيو. ذوالفقار علي ڀٽي جي چاليهين ورسي جي موقعي تي هڪ دفعو وري پارٽي ڪارڪنن کي گڏ ڪرڻ ۽ کين متحرڪ ڪرڻ جو وجهه مليو. ٻئي پاسي آصف علي زرداري نواز شريف، مولانا فضل الرحمان ۽ ٻين پراڻن اتحادين سان ڳالهيون ڪيون، ايتري قدر جو بلاول ڀٽو نواز شريف جي طبعيت پڇڻ به ويو، ايئن حڪومتي پروپيگنڊا مشنري ۽ بيان بازي پنهنجي جاءِ تي، پر اها سمورن الزامن، ڪيسن ۽ جاچ جي باوجود پيپلز پارٽي کي سياسي طوراڪيلو نه ڪري سگهي
.
پيپلز پارٽي پاڻ کي حڪومت مخالف ڌرين توڙي عوام سان پاڻ کي ڳنڍي رکڻ ۾ ڪامياب رهي. امڪاني گرفتاري جي صورت ۾ پيپلز پارٽي طرفان احتجاجي مهم هلائڻ ۽ پنجاب کي نواز ليگ جي مدد سان مهم جو حصو بڻائڻ جي تياري کان حڪومت به آگاهه رهي. ان ٻه ٽي مهينا اڳ ڪارڊ ڏيکاريو هو ته جيڪڏهن پيپلز پارٽي ڳڙٻڙ ڪندي ته کيس ان جي قيمت سنڌ حڪومت وڃائڻ جي صورت ۾ ادا ڪرڻي پوندي. پڙهندڙن کي ياد هوندو ته جي ڊي اي ۽ ايم ڪيو ايم وارا همراهه سکر ۽ گهوٽڪي ۾ وڃي گڏ ٿيا هئا، سڄو معاملو ان تي وڃي بيٺو ته خانڳڙهه جي مهرن جي ذريعي ناصر شاهه ڪو اهم ڪردار ادا ڪري سگهي ٿو. ٽن ڏينهن بعد ناصر شاهه وڏي وزير مراد علي شاهه سان گڏ بلاول ڀٽو سان ملاقات ڪئي، هڪ دفعو ٻيهر پارٽي سان وفادار بيهڻ جو اعلان به ڪيو، ان موقعي تي هن اهڙي پريس ڪانفرنس به ڪئي، هاڻي هڪ دفعو ٻيهر ساڳيو فارمولا آزمائڻ جا اشارا ڏنا پيا وڃن. وزيراعظم عمران خان جو خانڳڙهه جو دورو، اتي ٿيل ڳالهه ٻولهه ۽ وائرل ٿيل وڊيو مان به ڪجهه ڳالهيون ظاهر ٿيون، باقي رهيل ڳالهيون سمجهي سگهجن ٿيون.
اهم واقعو اهو ٿيو آهي جو وزيراعظم عمران خان کي ايم ڪيو ايم سڳي ۽ بنهه ويجهي جماعت محسوس ٿي رهي آهي، جنهن جو هن ڪراچي ۾ اظهار ڪيو. اهڙي ويجهي مائٽيءَ جو سال کن اڳ اظهار علامه قادريءَ سان ڌرڻي ۾ به ڪيو ويو هو. وزيراعظم کي اوچتو ايم ڪيو ايم وارن جي نفاست نظرا چي وئي، نه ته هن جماعت کي ته عسڪري لڏي دهشتگرد قرار ڏئي ان خلاف آپريشن ڪيو، ان جون آفيسون بند ڪيون، جيڪي اڃا تائين بند آهن. وزيراعظم اهو به چيو ته تحريڪ انصاف ۽ ايم ڪيو ايم ۾ ڪو فرق ڪونهي، بلڪه گهڻو امڪان آهي ته ايندڙ چونڊون اهي ٻئي جماعتون گڏجي وڙهن. وزيراعظم جي هن بيان جي تشريح اها ٿي بيهي ته وفاقي حڪومت هاڻي سنڌ ۾ اڪثريتي جماعت کي پاسيرو رکي، ڪنهن ٻي ڌر کي اهم ذميواري ۽ ڪردار ڏيڻ پئي گهري. عجيب ڳالهه آهي ته وزيراعظم ڪراچي کي ڇڏي سنڌ جي ٻين هنڌن تي موجود پنهنجي پارٽي جي ماڻهن توڙي اتحادين کي بنهه کنگهيو ئي ڪو نه، ٻيو ته ڇڏيو کين ڪرڻ لاءِ ڪو ڪم به ڪو نه ڏنائين، ايتري قدر جو اهي سڀ هاڻي پنهنجو سياسي دفاع ڪرڻ لاءِ به لاچار ٿي پيا آهن.
وفاقي حڪومت جي انهيءَ تحريڪ جو پتو سنڌ جي وڏي وزير سيد مراد علي شاهه جي گذريل هڪ مهيني ۾ ڏنل بيانن مان به پوي ٿو، جنهن مان هڪ ۾ هن چيو هو ته وفاقي حڪومت سنڌ حڪومت ڊاهي ٿي سگهي. تازي بيان ۾ هن چيو ته سنڌ حڪومت هٽائڻ لاءِ مخالفن کي 56 ميمبرن جي حمايت حاصل ڪرڻي پوندي. ٻه ڏينهن اڳ قانون واري وفاقي وزير فروغ نسيم جو هڪ خانگي چينل کي ڏنل انٽرويو به خطري جي گهنٽي طور وڳو. هن چيو ته هن وزيراعظم کي سنڌ ۾ آئيني مداخلت جو مشورو ڏنو آهي، هو اهو به چوي ٿو ته اڳ پوءِ وزيراعظم کي سنڌ ۾ اهو قدم کڻڻو پوندو. قانون واري وفاقي وزير جي مشوري موجب آئين جو آرٽيڪل 149 وفاق کي اجازت ڏي ٿو ته ڪنهن به صوبي ۾ امن امان ۽ معيشت جي مسئلي تي مداخلت ڪري سگهي ٿو. هن اها ڳالهه سڌو سنئون سنڌ حڪومت جو نالو کڻي چئي آهي.
حڪومت مخالف تحريڪ هلائڻ مهل پيپلز پارٽي جي سنڌ ۾ حڪومت هجڻ جا فائدا پنهنجي جاءِ تي، پر اهو نقصان به آهي ته اها داءُ تي لڳل هوندي، جنهن جو اظهار ڪري وفاقي حڪومت قانون واري وزير ذريعي سڌي طرح ۽ ايم ڪيو ايم جي نفاست ۾ گرفتار وزيراعظم ان جماعت سان قربت ڏيکاريندي سياسي طور ڪري رهيو آهي. ان جي موٽ پيپلز پارٽي جي چيئرمين بلاول ڀٽو به ڏني آهي، هو چوي ٿو ته جيڪڏهن تحريڪ انصاف جي حڪومت سنڌ حڪومت خلاف قدم کڻڻ تي بيٺي آهي ته وفاقي حڪومت کي ڪيرائڻو ئي پوندو. هن صوبن کي پيپلز پارٽي جي تحريڪ سان ڳنڍڻ لاءِ (خاص ڪري ننڍن صوبن کي) ارڙهين ترميم کي ريڊ لائين قرار ڏنو آهي. ٻئي پاسي مولانا فضل الرحمان چٽو اعلان ڪيو آهي ته اسين حڪومت ڪيرائينداسين، جيڪو ڪرڻو اٿئو سو ڪيو. مولانا اهو اعلان پنو عاقل ۾ اچي ڪيو آهي. آصف علي زرداري تازو ئي سنڌ جي ماڻهن کي بلاول، بختاور ۽ آصفه جي پارت جو نياپو ڏئي جنگ ۾ ٽپي پوڻ جو اعلان ڪري ڇڏيو آهي. پيپلز پارٽي سمجهي ٿي ته هن وقت جيڪا به پارٽي حڪومت سان سڌي جنگ ۾ ويندي ايندڙ حڪومت ان جي ئي هوندي. نواز ليگ جي حڪومت ۾ ان جنگ ۾ تحريڪ انصاف اڳ – راکُو ٿي، جڏهن ته پيپلز پارٽي فرينڊلي اپوزيشن بڻيل رهي، هن وقت نواز ليگ پوئين مورچي تي بيٺل آهي، ان ڪري اپوزيشن ۾ سامهون اچي بيهڻ ۾ پيپلز پارٽي جو فائدو ئي آهي. نواز شريف بيمار آهي، ان جي ضمانت ٿي سگهي ٿي، آصف علي زرداري به ڪو پڃريون ڪو نه پيو کڻي، سندس به طبعيت ايتري صحيح ڪونهي، ان جي به ضمانت ٿي سگهي ٿي، ان ڪري سودو مهانگو ڪونهي.
PPP,Money Laundering, zardari, 2019, PPP-PMLN,pahenji Akhbar,


Labels: , , , , ,

Friday, December 28, 2018

ڪپتان خان ٽي 20 نه ، ٽيسٽ مئچ کيڏو

ڪپتان خان ٽي 20 نه ، ٽيسٽ مئچ کيڏو

سڄو ملڪ غير يقيني جي ڪوهيڙي ۾ ورتل آهي، هينئر ڇا ڪرڻو آهي؟ سڀاڻي ڇا ڪرڻو آهي ؟ ايندڙ وقت ۾ ڇا ڪرڻو آهي ؟ ان بابت نه ڪو ادارو ۽ نه ئي وري اعليٰ آفيسر ڪجهه سوچي ۽ ڪري رهيا آهن. مٿان کان آرڊر اچي ٿو ته ڪرپشن جي جاچ ڪريو ته سڀ ان جاچ ۾ لڳي ويندا آهن، وري حڪم ٿئي ٿو ته “حددخليون هٽائڻيون آهن” سڀ حددخليون هٽائڻ ۽ ڀڃ ڊاهه ۾ لڳي ٿا وڃن، ڀڄ ڀڄان آهي، جنهن جو ڪو طئي ٿيل نه رخ آهي نه منزل.
ملڪ کي درپيش سڀ کان وڏومسئلو مالي بحران آهي جنهن جي حل لاءِ وزيراعظم پرڏيهي توڙي خزاني وارا وزير ذري گهٽ اڌ دنيا گهمي ويا آهن، چين، ملائشيا، سعودي عرب، گڏيل عرب اماراتون، روس توڙي ترڪي سڀني ملڪن مان ٿي آيا، آءِ ايم ايف سان به رابطو ڪيو ويو پر تازن اطلاعن موجب آءِ ايم ايف به ايڏو سولائي سان قرض ڏيڻ لاءِ تيار ناهي، آءِ ايم ايف جو خيال آهي ته پاڪستان قرض موٽائڻ جي پوزيشن ۾ ناهي، قرض ته کڻي ڏجي پر اهو ڀربو ڪٿان ؟ سعودي عرب ۽ گڏيل عرب امارتن به تقريبن 5- ارب ڊالر اسٽيٽ بينڪ آف پاڪستان ۾ رکرايا آهن، ان ذريعي اهو تاثر ڏنو پيو وڃي ته ڄڻ 5- ارب ڊالر پاڪستان جي اڪائونٽ ۾ اچي ويا آهن، اهي پئسا پاڪستان جا ناهن، بلڪه بينڪ ۾ رکيل ڌرادت آهي جنهن کي اوهان خرچ نٿا ڪري سگهو، اها رقم رڳو توهان جي ڪارپت ڏيکارڻ لاءِ آهي، جيئن عام واپار ۾ ٿيندو آهي ته ڪارپت سٺي هجڻ جي صورت ۾ ان کي ٻي ڪا ڌر قرض ڏيئي ڇڏيندي آهي پر اها ڪارپت به ملڪ جي مالي حالتن کي بهتر بڻائي نه سگهي، جو ان بنياد تي کيس ڪو قرض ملي نه سگهيو آهي، ڇا ڪاڻ جو اهي سڀ ڄاڻن ٿا ته اهي پراوا پئسا آهن، اسين هرو ڀرو پرائي مال تي ٽوپي نراڙ تي ڪيون ويٺا آهيون.
سڀ پاسا ڏسي اچڻ کانپوءِ نالي وارو وزير روز مني بجيٽ جا دڙڪا پيو ڏي، عالمي مارڪيٽ ۾ تيل جون قيمتون گهٽجڻ باوجود عام ماڻهو کي رليف نه ڏنو ويو. بظاهر ڊالر جي اگهه جو بهانو آهي پر ڊالر جو اگهه ته اڳ وڌيو هو، تيل جون قيمتون پوءِ گهٽيون آهن. توانائي جو گهوٽالو به شدت اختيار ڪري رهيو آهي، 70 سيڪڙو گئس پيدا ڪندڙ صوبي سنڌ کي گئس کان محروم رکيو پيو وڃي.
حڪومت چين جي آسري تي ڪُڏي رهي هئي پر ان سان واپار ۽ سيڙپڪاري جي مامرن تي نظرثاني ٿيڻ ڏي وڃي رهي آهي، انهن سمورين حالتن ۽ غيريقيني واري صورتحال ۾ ڪو ننڍو وڏو سيڙپڪار سيڙپ لاءِ تيار ناهي، معيشت جو ڦيٿو بنهه ڍرو ٿي رهيو آهي جنهن سان بيروزگاري وڌڻ ۽ ڪاروبار ۾ ٻاڙائي هيڪاري وڌي ويندي.
ساڳي صورتحال ملڪ جي سياسي معاملن جي آهي، پنجن ڇهن سيٽن تي بيٺل حڪومت سڀني کي جيل ۾ وجهي ٺيڪ ڪرڻ جي فارمولي تي هلي رهي آهي، ٻي ڪنهن پارٽي يا نقطه نظر کي سمجهڻ ۽ رڪموڊيٽ ڪرڻ جي صلاحيت کان وانجهيل کان وانجهيل حڪمران ملڪ جي ماحول ۽ ڪلچر کي غيرسياسي بڻائي رهيا آهن، جيترو ماحول غير سياسي بڻبو اوترو ئي اڻ سهپ وارو ۽ غير جمهوري ٿيندو ويندو.
سڀ ڪجهه ٺيڪ ڪرڻ جي خواهش چڱي ڳالهه آهي. چوندا آهن ته خواهشون جيڪڏهن گهوڙا هجن ها ته سمورا فقير به سواري ڪن ها، پر رڳو خواهشن جي بنياد تي ملڪ جو ڪاروهنوار، سو به هر پاسي کان گهوٽالي ۾ ورتل ملڪ کي هلائڻ ڏکيو نه بلڪه ناممڪن ٿو لڳي، گڏيل صلاح مشوري سان نظام ٺاهي ۽ انهن ۾ سڌارا آندا ويندا آهن، شخصي خواهشن جي بنياد تي ٺاهيل نظام يا ڪي سڌارا گهڻو جٽاءُ نه ڪري سگهندا آهن. جيئن ايوب خان جو جوڙيل سمورو نظام سندس وڃڻ بعد ڊهي پٽ پئجي ويو، ساڳي ريت ضياءُ الحق جو نظام به اڏامي ويو، اها ڳالهه آهي ته ضياء جي باقيات واريون انگهون ۽ کُتون اڃا تائين ماڻهن توڙي جمهوري ڌرين ۽ ادارن کي چڀنديون رهن ٿيون.
هڪ افراتفري ۽ غير يقيني جي ڌنڌ آهي، مٿان وري ٽي چار پاور سينٽر ٺهڻ ڪري معاملو ويتر مونجهاري جو شڪار آهي.
حڪومت، جاچ ڪندڙ ادارا ۽ عدليه پنهنجي پنهنجي رخن ۾ ڪم ڪري رهيا آهن، جيڪو وڻي سو عدليه فيصلو ڏي ٿي انهن فيصلن جي ڳوڙهي اڀياس مان پتو پوي ٿو ته ان سان ايندڙ وقت ۾ سموري پاڪستان ۽ ملڪ جي ماڻهن تي ڏاڍا ناخوشگوار اثر پوندا.
بنا ڪنهن ڊائريڪشن جي ڪارپيٽ هيٺان گڏ ٿيل سالن جي دز هٽائڻ نه ڪو ايڏو سولو ڪم آهي ۽ نه وري اڪيلي سر هٽائي سگهجي، رڳو دز هٽائڻ جي ڪوشش دز کي اڏائي سڄي معاشري جي منهن تي ته پئجي سگهي ٿي پر اها مڪمل طور صاف نٿي ٿي سگهي، سمجهه ۾ نٿو اچي ته عمران خان پنجن ڏينهن واري ٽيسٽ ميچ جو رانديگر آهي، هو هڪ ڏينهن واري ڪرڪيٽ به ڪاميابي سان کيڏي چڪو آهي پر هو ٽي ٽوئنٽي ڇو کيڏي رهيو آهي، ايڏي ڪهڙي تڪڙ اٿس؟

Labels: , , , ,

Tuesday, December 25, 2018

نواز شريف کي سزا مٿس ”هلڪو هٿ“ ته ناهي؟

نواز شريف کي سزا مٿس ”هلڪو هٿ“ ته ناهي؟

هاڻي نواز شريف خلاف مبينه ڪرپشن جي ٽنهي ڪيسن جو  فيصلو ٿي ويو، اڳوڻي وزير اعظم نواز شريف کي احتساب عدالت مان العزيزيه اسٽيل ملز ريفرنس ۾ آيل قيد ۽ ڏنڊ جي سزا غير متوقع نه هئي. عدالت ۾ ساڳئي وقت تي فليگ شپ ريفرنس به هلندڙ هو، جنهن مان کيس بري ڪيو ويو آهي، ايون فيلڊ فليٽس جي ريفرنس ۾ احتساب عدالت جي ڏنل ڏهه سالن واري سزا اسلام آباد هاءِ ڪورٽ مان معطلي، ساڳئي وقت مريم نواز جي بري ٿي وڃڻ ۽ نواز شريف جي سياسي طور غير سرگرم ٿيڻ تي سياسي طور تي کوڙ ڳالهيون پئي هليون ته اسٽيبلشمينٽ سان ڪو ٺاهه ٿي ويو آهي، پر سومر ڏينهن واري فيصلي ۾ آيل سزا ڪنهن حد تائين اهڙي ڪنهن ٺاهه جي ترديد ڪري ٿي. پر هڪ ڳالهه ضرور آهي ته انهن ٻن ريفرنسز بابت فيصلي جي اها وضاحت ڪڍي پئي ته نواز شريف تي ڪنهن حد تائين هٿ هلڪو رکيو ويو آهي، جو هڪ ريفرنس ۾ کيس آجو قرار ڏنو ويو آهي، ٻئي ڪيس ۾ ست سال قيد جي سزا آئي آهي. جيڪڏهن فليگ شپ ڪيس ۾ به سزا ڏني وڃي ها ته عملي طرح ڪو گهڻو فرق نه پوي ها. جيل جي مدت ساڳي رهي آهي. عدالت نواز شريف جي اها درخواست به منظور ڪئي ته کيس اڊيالا جيل راولپنڊي جي بدران ڪوٽ لکپت جيل لاهور ۾ رکيو وڃي.
نواز شريف تي هلڪو هٿ رکڻ جي تشريح ڪندڙن جو خيال آهي ته ان ۾ ٺاهه کان وڌيڪ ان ڳالهه جو تعلق آهي ته اسٽيبلشمينٽ نواز شريف جو ڪم لاهڻ کانپوءِ آصف علي زرداري ۽ پيپلز پارٽي کي پڄڻ گهري ٿي. ان ڪري اهي نواز شريف واري ڌر کي رعايت ڏئي رهيا آهن پر هتي اها ڳالهه اهم آهي ته خود پنجاب ۽ ڪنهن حد تائين اسٽيبلشمينٽ جي ڪجهه حلقن ۾ اها ڳالهه محسوس ڪئي پئي وڃي ته ساڻس ايتري جُٺ نه ڪرڻ گهرجي. اهڙيون معنائون ڳوليندڙ وزير اعظم عمران خان جي لڳاتار انهن بيانن جو حوالو ڏيڻ جنهن ۾ هن چيو هو ته ڪنهن سان گهٽ نه ٿيندي، ڪنهن کي اين آر او نه ملندو، وغير وغيره، وزير اعظم جا اهي بيان شايد نواز شريف جي حمايتي ڪمزور لابي کي جواب طور هئا.
جيئن حڪومت اپوزيشن جي ٻن وڏين پارٽين پٺيان لٺ کڻي پئي آهي، ان مان لڳي ٿو ته اها هر حال ۾ ٻنهي پارٽين کي انهن جي مکيه ليڊر شپ آصف زرداري، نواز شريف ۽ شهباز شريف کان خالي ڪرڻ گهري ٿي. پوري ڪوشش آهي ته اهي ڪنهن طرح سان سياست مان آئوٽ ٿين.
تحريڪ انصاف ۽ ڌر ڌڻين جي انهي حملي کان بچڻ  لاءِ اهي ٻئي جماعتون هڪٻئي کي ويجهو اچي رهيون آهن ته جيئن حڪومت تي پنهنجي بقاءَ لاءِ دٻاءُ وجهي سگهن، پر ٻنهي پارٽين جي اندر رڳو پاڻ بچائڻ ۽ ڊپ سبب گڏيل اپوزيشن وارو سپنو ساڀيان نه ٿي سگهيو آهي، پر ان جو مطلب اهو ناهي ته ڪو اهي جماعتون متحد نٿيون ٿي سگهن. ها اها ٻي ڳالهه آهي ته وڏيون ڌريون واري ڦيري سان انهن پارٽين تي دٻاءُ وجهڻ ۽ ڪي ٻيون اٽڪلون ڳولين جو اهي متحد نه ٿي سگهن.
سوال اهو آهي ته ٻئي جماعتون احتجاج ڇو ڪري رهيون آهن؟ حڪومت جي سمورين وضاحتن باوجود ماڻهو اهو سمجهن ٿا ته ملڪ ۾ جاري احتسابي عمل ”سليڪٽو“ آهي. جيئن ته پيپلز پارٽي ۽ نواز ليگ گذريل هڪ ڏهاڪي کان حڪومت ۾ رهيون آهن، تنهن ڪري احتساب انهن جو ٿيندو، جن وٽ سرڪاري عهدا هئا پر زميني حقيقتون احتساب کي سياسي مقصدن کان خالي نه ٿيون سمجهن.
هڪ رپورٽ موجب ڪل 79 سياستدانن خلاف احتساب لاءِ ڪيس، جاچ ۽ انڪوائريون هلندڙ آهن، انهن ۾ سڀ کان وڏو تعداد يعني 37 سيڪڙو پيپلز پارٽي، ٻاويهه کان پنجويهه سيڪڙو تائين نواز ليگ ۽ ڏهه کان تيرهن سيڪڙو تائين تحريڪ انصاف جا ماڻهو آهن، جڏهن ته نيب وارا رڳو نواز ليگ ۽ پيپلز پارٽي وارن جي خلاف جاچ ڪن ٿا ته انهن پارٽين جو اهو چوڻ درست ٿو لڳي ته احتساب جو عمل يڪسان ۽ سڀني سان ساڳي طريقي جو نه پيو ڪيو وڃي. پيپلز پارٽي پارليامينٽيرينز جي نفيسه شاهه چوي ٿي ته سڀني جو احتساب قبول آهي، پر انتقام جي مزاحمت ڪنداسين، عمران کي گهرجي ته هو پنهنجي ڀيڻ عليمه خان ۽ جهانگير ترين کي به احتساب لاءِ پيش ڪري، جيڪڏهن واقعي اڻ ڌريي يا بي رحم احتساب جو تاثر ڏنو ٿو وڃي ته موجوده حڪمران جماعت وارن کي به کنيو وڃي. ايئن نه ڪرڻ جي صورت ۾ وزيراعظم عمران خان تي حڪومت ۽ نيب جي وچ ۾ ڳٺ جوڙ جو الزام اچي ٿو وڃي.
ياد رهي ته حڪومت جون واڳون سنڀالڻ واري ڏينهن تي وزيراعظم عمران خان سخت رويو رکڻ جو اظهار ڪندي چيو هو ته ايف آءِ اي ۽ وزارت داخلا وٽس ئي رهندا. ”اهي کاتا “ پاڻ وٽ ان لاءِ پيو رکان جو ايف آءِ اي ۽ انٽيليجنس بيورو جي پاڻ نگراني ڪرڻ گهران ٿو ۽ مني لانڊرنگ جي جاچ جي پيش رفت پاڻ ڏسڻ گهران ٿو، اها ٻي ڳالهه آهي ته اڳتي هلي عدالت سڳوري سندس مدد لاءِ اچي پهتي.
اهم ڳالهه اها آهي ته سسٽم عمران خان جي حمايت ۾ بيٺل آهي، اهو نواز شريف ۽ آصف زرداري جي حق ۾ ناهي، هاڻي نواز شريف کي ته سزا اچي وئي پر آصف زرداري خلاف ڪرپشن جا الزام، ڪيس ۽ جاچ جي تلوار لٽڪيل آهي. وزيراعظم جو خاص مددگار نعيم الحق چوي ٿو ته جي آءِ ٽي رپورٽ بعد ڪرپٽ حڪمرانن کي عبرتناڪ سزا ڏيڻ تائين ان نظام مان ڇوٽڪارو نٿو حاصل ڪري سگهجي. سڌ سماءَ وارو وزير چوڌري فواد چوي ٿو ته ”آصف زرداري ۽ نواز شريف جي سياست ختم ٿي چڪي آهي“ حڪومت چاهي ٿي ته اهي ٻئي اڳواڻ يا سياست کان پري ٿي وڃن يا وري ايترو ٻارڻ ٻاريو وڃي جو پاڻ ئي سياست کان رٽائر ٿي وڃن. آصف زرداري جڏهن ڪجهه ادارن جي سربراهن جي نالي اڻ سڌي طرح ٽن سالن جي مدت واري ڳالهه ڪري ٿو ته لڳي ٿو ته هو سياستدانن کي ڏنل اهڙي ريٽائرمينٽ واري ”آڇ“ جو جواب ڏئي رهيو هجي ٿو.
جيستائين نواز شريف کي ڏنل سزا جو تعلق آهي ته مريم نواز جنهن ٽن مهينن جي چپ جو روزو ٻه ڏينهن اڳ کوليو هو، تنهن ٽوئيٽ ذريعي ردعمل ڏنو آهي ته“انڪوائري انتقام جي آخري هڏڪي آهي، هڪ ئي شخص کي چوٿون ڀيرو سزا ڏني وئي آهي.“ مسلم ليگ نواز هن سزا تي احتجاج ريڪارڊ ڪرايو آهي. اسلام آباد ۾ پوليس کي اڄ ڳوڙها آڻيندڙ گيس وهائڻي پئي. عدالتي فيصلي کان هڪ ڏينهن اڳ نواز شريف ۽ شهباز شريف جي وچ ۾ ملاقات ٿي هئي. ملاقات ۾ اها گڏيل راءِ بيٺي ته جيڪو به فيصلو آيو ان حوالي سان قانوني رستو اختيار ڪيو ويندو. فيصلي خلاف پارليمينٽ اندر احتجاج ڪيو ويندو. نواز ليگ، چيف جسٽس ثاقب نثار جي ايندڙ  ڏينهن ۾ ريٽائرمينٽ بعد عدليه ۾ ايندڙ تبديلين کي به پرکڻ گهري ٿي ته اهو به سمجهي ٿي ته ان سان جيڪي ٿيڻو هو سو ٿي چڪو هاڻ ٻي سنگت يعني پيپلز پارٽي سان ڇا ٿو ٿئي ۽ اها ڇا ٿي ڪري، ان مطالبق قدم کڻبو.

Labels: , ,

Monday, July 23, 2018

پيپلز پارٽيءَ جي چونڊ مهم مان آصف زرداري آئوٽ ۽ بلاول سرگرم ڇو آهي؟ سهيل سانگي


http://kawish.asia/Articles1/Sohail%20Sangi/2018/2018/24%20Jul%202018.htm
سهيل سانگي


  چونڊ مهم جو آخري هفتو آهي، جو پير پاڳارو پاڻ جي ڊي اي جي مهم ۾ لٿو آهي. ان کان اڳ هو انتظار ڪري رهيو هو ته پيپلز پارٽي جي بس تان جيڪي مسافر هيٺ ڪرن، تن کي پنهنجي ٻيڙي ۾ ويهاري ڊرائنگ روم ۾ ويهي جوڙ توڙ ڪري رهيو هو. ميڊيا اهو تاثر ڏيئي رهي آهي ڄڻ سنڌ پيپلز پارٽي جي هٿن مان وڃي پئي.
جڏهن چونڊ مهم عروج تي هئي يا پارٽي جي شريڪ چيئرمين آصف زرداري ۽ سنڌ ۾ پيپلز پارٽي جي حڪومت کي حقيقي معنيٰ ۾ هلائيندڙ سندس ڀيڻ فريال ٽالپر خلاف مني لانڊرنگ جو معاملو منظر تي اچي ويو. ظاهر لڳو پئي ته اهو پيپلز پارٽي تي اوچتو حملو هو- پر حالتون ۽ واقعا ٻڌائين ٿا ته پارٽي قيادت معاملي کان آگاهه هئي. اهو ئي سبب آهي، جو اهي ٻئي مک اڳواڻ اميدوارن کي ٽڪيٽ جاري ڪرڻ جي فيصلي کانپوءِ ڄڻ چونڊ مهم جي منظر عام تان ئي گم هئا. ٽڪيٽ جاري ڪرڻ ۾ بلاول ڀٽو زرداري جو ڪو رول نظر نه آيو، پر جيئن چونڊ مهم شروع ٿي ته ان جي سموري ذميواري مٿس وڌي ويئي. ڄڻ کيس اهو چيو ويو هو ته جهڙا به آهن، انهن کي کٽائڻو آهي. پارٽي 2013ع جي چونڊ کان پوءِ مڪمل طور اليڪٽئبلز جي سياست ۾ هلي وئي هئي. اسٽيبلشمينٽ توڙي ان جي روايتي اتحادي اشرافيه جي خواهش هئي ته پيپلز پارٽي عوامي سياست واري حڪمت عملي کي پاسي تي رکي اليڪشن ۾ اليڪٽئبلز واري پچ تي اچي ته کيس هينڊل ڪرڻ سولو ٿي پوندو. جيئن چونڊ مهم شروع ٿي ته ڏٺو ويو ته، ”سنگ هر شخص ني هاتهون ۾ اُڻها رکها هي“ واري صورتحال هئي، پر هن ڀيري پٿر نه هو، پر موبائيل فون واري ڪئميرا هئي. هڪ پاسي اسيمبلي ميمبرن کان ماڻهن جو پڇاڻو هو ته ٻئي پاسي وري اهي اليڪٽئبلز هئا، جن کي پارٽي ۾ جڳهه نه ملي سگهي، سي ناراض ٿي ويا ۽ انهن آزاد حيثيت ۾ اليڪشن وڙهڻ جو فيصلو ڪري ورتو هو.
جيتوڻيڪ پارٽي اها ڳالهه اعلانيه نه مڃي ته عوام تي ڀاڙڻ واري سياست ڇڏي اليڪٽئبلز جي سياست ڪرڻ وارو فيصلو صحيح نه هو، پر ان پارٽي کي پهچندڙ نقصان کي روڪڻ لاءِ ترت علاج اهو ڳوليو ته پارٽي جي نوجوان چيئرمين بلاول ڀٽو کي اڪيلو چونڊ مهم هلائڻ جو ذمو ڏنو ويو. ڪنهن به موقعي تي پارٽي جا فيصلا ڪندڙ آصف زرداري ۽ فريال ٽالپر ساڻس گڏ نظر نه آيا. پارٽي جي اندرين ذريعن جو چوڻ آهي ته چونڊ مهم بلال هلائيندو ۽ چونڊن کانپوءِ واري سياسي جادوگيري آصف زرداري ڪندو.
پهرين مرحلي ۾ بلاول سنڌ جو دورو ڪيو، جولاءِ جي ٻئي هفتي ۾ سندس توجهه جو مرڪز پنجاب هو. ايتري ۾ آصف زرداري ۽ فريال ٽالپر کي مني لانڊرنگ معاملي ۾ ايف آءِ اي ۽ سپريم ڪورٽ گهرائي ورتو. ان سان گڏ ٻنهي جا نالا اي سي ايل لسٽ ۾ شامل ڪيا ويا. اهي خبرون هليون ته مني لانڊرنگ جي جاچ پاناما ڪيس جي طرز تي جي آءِ ٽي ڪندي. اهي سڀ واقعا ۽ احوال اهو اشارو ڏيئي رهيا هئا ته سنڌ ۾ ڪنگ ميڪر هاڻي آصف زرداري نه، پر پير پاڳارو آهي. پيپلز پارٽي قيادت جو خيال هو ته سنڌ ۾ حڪومت ٺاهڻ هنن جي لاءِ ڪنهن به صورت ۾ مسئلو نه بڻبو. ان ڪري سندس توجهه ان تي بيٺي ته سنڌ مان قومي اسيمبلي جون 50 کن سيٽون کٽي ته جيئن مرڪز ۾ ٺهندڙ حڪومت ۾ پنهنجو ڪردار ادا ڪري سگهي. پر هتي ڪهاڻي ۾ هڪ دفعو وري نئون ۽ خطرناڪ موڙ اچي ويو. گرينڊ نيشنل الائنس اهو محسوس ڪرايو ته سنڌ ۾ به زمين پيپلز پارٽي جي پيرن هيٺان نڪري سگهي ٿي. پير پاڳارو جي سنڌ جي دوري جو پروگرام سامهون اچي ويو. تيستائين نواز شريف ۽ سندس ڌيءَ مريم نواز سزا ڪاٽڻ لاءِ لنڊن مان اچي لاهور لٿا. پنجاب ڀرپور استقبال ۽ احتجاج جي موڊ ۾ ٿي لڳو. اوڏي مهل زرداري ۽ نواز شريف کي هڪ ٻئي کان پري رکڻ ضروري هو. زرداري کي اها ڳالهه سمجهه ۾ اچي وئي. هن تڪڙ ڪرڻ بدران اهو معاملو چونڊن کان پوءِ واري وقت لاءِ رکيو. نتيجي ۾ عدالت توڙي ايف آءِ اي ٻنهي وٽ مني لانڊرنگ وارو معاملو به اليڪشن کانپوءِ وارين تاريخن ۾ هليو ويو.جي ڊي اي عام راءِ ٺاهيندڙن جي حد تائين اهو تاثر ڏياري وئي ته ممڪن آهي ته سنڌ ۾ پيپلز پارٽي جي حڪومت نه ٺهي. شرط اهو آهي ته پيپلز پارٽي کان ٻاهر ويٺل سڀ آزاد، مختلف سياسي پارٽيون گڏجي ”ون ٽو ون“ مقابلي جي صورتحال پيدا ڪري ڏين. ڪيترن هنڌن تي اهڙي سيٽ ايڊجسٽمينٽ ڪئي وئي. ٻئي پاسي چئن پنجن شهرن ۾ جلسن ذريعي طاقت جو مظاهرو ڪري ووٽرن جي روئي تي به اثرانداز ٿيڻ جي ڪوشش ڪئي وئي.
پيپلز پارٽي ناراض اڳواڻن کي پرچائڻ لاءِ سموريون ڪوشش ڪري وڏي حد تائين پهتل نقصان جو الزالو ڪري ورتو. بظاهر نظر ايندڙ هالا جو مخدوم خاندان آهي، جنهن کي ايندڙ وقت ۾ ”وڌيڪ فضيلت“ واري طريقي سان حڪومت ۾ اڪموڊيٽ ڪرڻ جي شرط تي ٽي ٽاسڪ ڏنا ويا. هڪ اهو ته بدين ۾ فهميده مرزا جي مقابلي ۾ حاجي رسول بخش چانڊيو، عمرڪوٽ ۾ مخدوم شاهه محمود قريشي جي مقابلي ۾ يوسف ٽالپر ۽ ٿرپارڪر ۾ ننگر پارڪر- ڇاڇرو واري صوبائي سيٽ جي کٽڻ کي يقيني بنائي. شاهه محمود قريشي ۽ فهميده مرزا هاءِ پروفائيل آهن، ان ڪري اهي پيپلز پارٽي جي عزت جو سوال بڻيل آهن. ان کان علاوه مختلف تڪن ۾ مقامي سطح تي پيپلز پارٽي مختلف بندوبست ڪيا آهن. رسامن کي پرچائڻ ۾ تبديل ڪيو آهي.
جي ڊي اي جو پير صاحب پاڳارو چونڊ مهم ۾ پاڻ لٿل آهي، جڏهن ته هن 2013ع ۾ ائين نه ڪيو هو. پير صاحب لاءِ جي ڊي اي اهم آهي، پر ان کان به وڌيڪ اهم خود فنڪشنل ليگ جو سياسي بقا جو به سوال آهي، ڇاڪاڻ جو گذريل ٻن عام چونڊن توڙي مڪاني ادارن جي چونڊ ۾ پارٽي جي اڳ جي ڀيٽ ۾ پنهنجي سگهه گهٽ ٿي آهي. ان ڪري پاڳاري خاندان ۽ فنڪشنل ليگ سان رفاقت رکندڙ ٻه ايم پي ايز کين ڇڏي پيپلز پارٽي ۾ هليا ويا. حر تحريڪ جي ڳڙهه ۾ پيپلز پارٽي کٽي وئي. فنڪشنل ليگ جي ڊي اي جي اتحاد ذريعي پاڻ کي پيپلز پارٽي جي متبادل طور پيش ڪري رهي آهي. ان جي پويان سڄي حڪمت عملي اها ئي آهي ته جي ڊي اي دراصل سنڌ جي ماڻهن لاءِ نه، پر اليڪٽئبلز لاءِ متبادل آهي. انهن اليڪٽئبلز کي اهو آسرو/ تاثر ڏنو ويو آهي ته اقتدار جي ڪرسي تائين رسائي رڳو آصف زرداري جي ذريعي نٿي سگهي ٿي، بلڪه پير پاڳاري جي ذريعي به ٿي سگهي ٿي.
پيپلز پارٽي پير پاڳاري جي ان ٻه رُخي حڪمت عملي جي ٽوڙ لاءِ ٻيا جڳاڙ ڀلي ڳولي، پر پيپلز پارٽي لاءِ ضروري ٿي ويو آهي ته اها چونڊ مهم جي پڄاڻي تي هڪ دفعو وري بلاول ڀٽو کي ميدان ۾ لاهي.

Labels: , , ,

ڇا احتساب عدالت سڀاڻي نواز شريف کي سزا ٻڌائيندي؟ سهيل سانگي

ڇا احتساب عدالت سڀاڻي نواز شريف کي سزا ٻڌائيندي؟

سهيل سانگي

  ايون فيلڊ ريفرنس جي فيصلي جا رڳو شريف خاندان تي ئي نه، پر ملڪي سياست تي گهرا ۽ وڏي حد تائين هاڃيڪار اثر پوندا. جيڪڏهن نواز شريف کي سزا اچي ٿي ته ان صورت ۾ ان کي سياسي طور ورتو ويندو. ڪن تجزيه نگارن موجب ائين ملڪي تاريخ جو هڪ اهڙو باب کلڻ پيو وڃي، جنهن ۾ جمهوري عمل، آئيني نظام ۽ سياسي ماحول سڀ ڪجهه خطري ۾ پئجي سگهي ٿو. احتساب عدالت جو فيصلو وڏي پيماني تي ايندڙ چونڊن تي اثرانداز ٿيندو. هونئن به هيستائين جيتري چونڊ مهم هلي آهي، ان تي به نواز شريف حاوي رهيو آهي. اهو سلسلو فيصلي اچڻ بعد وڌيڪ ڇانيل رهندو. هفتو کن اڳ تائين سياسي بازار ۾ اهي ڳالهيون ٿي هليون ته نواز شريف سياست مان به هٿ ڪڍڻ لاءِ تيار ٿي ويو آهي ۽ هو پارٽي ۽ سياست شهباز شريف جي حوالي ڪرڻ لاءِ تيار ٿي ويو آهي. شرط اهو آهي ته سندن جان ڪيسن مان ڇُٽي ۽ گڏوگڏ اهو ته سندس ملڪيت کي هٿ نه لاتو وڃي. اهڙي صورت ۾ محتاط رهندڙ ۽ نرم رويو رکندڙ شهباز شريف کي کيڏڻ جو موقعو ڏنو ويندو، جيڪو چوڌري نثار جي ساٿين سان گڏ سيٽ اپ ٺاهي وٺندو. هن فارمولي جي وڪالت ڪندڙن موجب وفاق ۾ عمران خان جي گڏيل حڪومت جڙندي. باقي صوبن ۾ جيئن چونڊن کان اڳ صورتحال هئي، تيئن بيهندي. عمران خان انهيءَ فارمولا تي راضي ناهي. هو پاڻ وزيراعظم ٿيڻ چاهي ٿو ۽ اهو به ته سندس ئي پارٽي کي اڪثريت ملي. هو ڪنهن ٻي وڏي پارٽي جي محتاجي کڻڻ نٿو چاهي.
اهي سوال به پنهنجي جاءِ تي آهن ته ڌر ڌڻي عمران خان جي ڦرڻي گهرڻي طبيعت ۽ سياسي سمجهه بابت اڃا تائين شڪ ۾ آهن. ان ڪري هو مٿس پوري طرح ڀروسو ڪرڻ لاءِ تيار ناهن. جڏهن عمران خان کي سرسي ڏيڻ بنا فارمولو هليو پئي ته پيپلز پارٽي جو وڏو اهو چئي رهيو هو ته اسان کان سواءِ حڪومت ٺهي نه ٿي سگهي. جيڪو به حڪومت ٺاهيندو، سو اسان ڏانهن ايندو. وڌ ۾ وڌ آزاد اميدوار ڪامياب ٿيندا. وغيره وغيره. لڳي ٿو ته عمران خان ڌر ڌڻين کي مڃائي ورتو، انهيءَ ڪري فارمولي کي ڪجهه تبديلين سان ٻيهر جوڙيو ويو. هڪ اهو ته آصف زرداري کي تکو ٿيڻ کان روڪڻ لاءِ اسماعيل ڏاهري جي گرفتاري ٿي، جنهن جو اعتراف ڌڻي پاڻ ڪري چڪو آهي. ساڳي ڏينهن هن اهو به چيو ته اسين اپوزيشن ۾ ويهڻ لاءِ تيار آهيون. وري اڳتي هلي هن چيو ته بلاول ڀٽو زرداري اپوزيشن ليڊر به ٿي سگهي ٿو. حالانڪه ڏهاڪو ڏينهن کن اڳ سندس ڌيءُ اهو ٽوئيٽ ڪيو هو ته ”اگلي باري، پهر زرداري“ پر اها ڳالهه هلي نه سگهي.
اصل ۾ اڃان تائين ڳالهه پنجاب ۾ ئي ڦاٿل آهي، جتي نواز شريف ۽ سندس ڌيءُ مريم نواز جي خلاف ڪيس ۾ جمعي ڏينهن فيصلو اچڻو آهي. ان فيصلي تي نواز شريف ۽ سندس پارٽي ڪيئن ردعمل ڏيکاري ٿي؟ پنجاب ڪهڙو رويو ٿو اختيار ڪري؟ اهي پاسا ڏاڍا اهم آهن. نواز شريف اهو چئي چڪو آهي ته اليڪشن کان اڳ ڌانڌليون ٿيل آهن، اهڙين حالتن ۾ شفاف چونڊون ٿيڻ ممڪن ناهي. احتساب ڪندڙ ادارن ۽ عدالتي فيصلن جي ٽائيمنگ ڏاڍو اهم بڻجي وئي آهي. هڪ ئي پارٽي جي اميدوارن خلاف لٺ کنئي پئي وڃي. کين توهين عدالت تي نااهل قرار پيو ڏنو وڃي. چونڊ مهم دوران روز روز عدالت ۾ شنوائيون هجن، ان پارٽي جي اميدوارن خلاف نيب به چونڊ مهم جي دوران وٺ پڪڙ شروع ڪري ته مضبوط تاثر جڙي ٿو ته معاملو شفاف ناهي، جنهن جي دعويٰ ڪئي پئي وڃي. ڪرپشن جي جاچ توڙي ٻيا معاملا جن بابت عين وقت تي قدم کنيا پيا وڃن، اهو سڀ ڪجهه مهيني ڏيڍ کان پوءِ به ٿي پيو سگهي. اهڙا قدم ڇو پيا کنيا وڃن، جيڪي نگرانن توڙي ٻين ادارن جي غيرجانبداري تي سوال اٿارين؟ چونڊن جي شفافيت بابت به سوال اٿن، ۽ متاثر پارٽي ۽ ان جي اڳواڻ کي اهو چوڻ جو موقعو ملي ته چونڊون شفاف ۽ غير جانبدارنه پيون ٿين؟ اهو تاثر ايترو ته مضبوط ٿيو، جو چيئرمين نيب توڙي چيف جسٽس کي وضاحتون ڏيڻون پيون ته اهي ڪنهن جي چونڊ مهم نه پيا هلائين.
نواز ليگ جي اميدوارن خلاف به وٺ پڪڙي ۽ دٻاءُ ايترو هو، جو سمورن اپائن جي باوجود پنجاب ۾ نواز ليگ جي مقبوليت ۾ گهٽتائي نه آئي. موٽ ۾ نواز شريف معاملي کي ان حد تائين وٺي ويو، جنهن مان اهو تاثر مليو ته اهڙي دٻاءَ جي صورت ۾ هو اليڪشن جو بائيڪاٽ ڪري ويندو. اهڙو بيان شهباز شريف سان منسوب ٿيل اخبارن ۾ ڇپيو، پر ترت ئي ان جي ترديد ڪئي وئي. تجزيه نگارن جو خيال آهي ته نواز ليگ وٽ بائيڪاٽ جي تجويز به ويچار هيٺ رهي آهي پر کيس اها صلاح ڏني وئي ته بائيڪاٽ جي صورت ۾ مخالفن کي متوازن ۽ متبادل پاور پروڪر ٺاهڻ جو موقعو ملي ويندو. هيءُ هڪ اهڙو فيصلو هوندو، جهڙو بينظير ڀٽو 85ع جي چونڊن ۾ ڪيو هو ۽ بعد ۾ ان تي پڇتايو هو.
نواز ليگ تي اهو گهڻ طرفو دٻاءُ اڃان موجود ئي آهي ته ڪيس جو فيصلو اچي رهيو آهي. قانوني ماهرن جو خيال آهي ته اهو فيصلو نواز شريف خاندان جي خلاف ئي هوندو. ان صورت ۾ نواز شريف آڏو ٻه آپشن هوندا. هڪ اهو ته هو تڪڙ ۾ واپس نه موٽي. هاءِ ڪورٽ ۾ اپيل ۾ وڃي ۽ ضمانت جي ڪوشش ڪري. جيڪڏهن هو ائين ڪري ٿو ته ان جو مطلب اهو ڪڍيو ويندو ته شهباز شريف جي ذريعي ڪا ڊيل ٿي آهي. ٻيو آپشن اهو ئي ٿي سگهي ٿو ته هو وطن موٽي اچي ۽ گرفتاري پيش ڪري. ائين نواز ليگ ان بيانئي تي چونڊ مهم هلائي جيڪو نواز شريف جو هو. ائين هو ”همدردي توڙي بهادر ٿي بيهڻ ۽ مقابلو ڪرڻ“ جو ووٽ حاصل ڪري سگهي ٿو. وطن موٽي اچڻ جي صورت ۾ به هو فيصلي خلاف توڙي ضمانت لاءِ هاءِ ڪورٽ سان رجوع ڪري سگهي ٿو. ان جو مطلب اهو ٿيندو ته ميدان ۾ رهي مقابلو ڪجي. پهرين صورت مصلحت پسند واري آهي. جيڪڏهن هو ان پهرين فيصلي تي هلي ٿو ته عام ووٽرن لاءِ نواز شريف ترجيح نه رهندو. بلڪه اها صورت سندس سياسي شڪست واري هوندي. نتيجي ۾ نواز ليگ جا اليڪٽيبلز پارٽي مان وڏي تيزيءَ سان نڪرڻ شروع ٿي ويندا. هن وقت اهي اليڪٽيبلز ٻن سببن جي ڪري هن وٽ موجود آهن. هڪ اهو ته عام ماڻهن ۾ نواز شريف مقبول آهي ۽ ووٽ نواز شريف جي نالي تي ملندو، ٻيو اهو ته ايتري مقبوليت ۽ سيٽون هئڻ جي صورت ۾ نواز ليگ پنجاب ۾ ضرور حڪومت ٺاهي ويندي. پهريون نمبر آپشن فراريت وارو آهي. جڏهن ته ٻيو نمبر آپشن ڏکيو ضرور آهي، پر اهو سياسي طور زنده رهڻ ۽ مجموعي طور جمهوري ڍانچي کي فائدو ڏيندڙ آهي. ڏسڻو اهو آهي ته نواز شريف ڪهڙو فيصلو ٿو ڪري؟ اهو ضرور ذهن ۾ رکڻ گهرجي ته نواز شريف جيڪو به فيصلو ڪندو، اهو پنجاب جي عام راءِ کي سامهون رکي ڪندو.
Key words: Trial,NawazSharif,Kawish, 2018,  Zardari,  Ismail Dahri

Labels: , , , , ,

Tuesday, December 19, 2017

تبديل ٿيل اڪريپٽ ۾ پيپلز پارٽيءَ کي اهم ڪردار مليو آهي؟

ڇنڇر 09 ڊسمبر 2017ع
اڳي چيو ويندو هو ته ”هاڪي وٿ چانس اينڊ ڪرڪيٽ وٿ ڊانس“ يعني هاڪي راند جو کٽڻ چانس آهي ۽ ڪرڪيٽ ڊانس اسٽائيل ۾ کٽي سگهجي ٿي. پيپلز پارٽي جي شريڪ چيئرمين ۽ اڳوڻي صدر آصف علي زرداري هاڻي سياسي راند ۾ به ڊانس متعارف ڪرائي آهي. اسلام آباد جي پريڊ گرائونڊ تي هڪ پنجابي گيت تي ڀنگڙا ڊانس ڪندي بظاهر هن سياست ۾ عوامي رنگ ڀرڻ جي ڪوشش ڪئي. حالانڪه کيس اهو ڊانس پنجاب يا سنڌ جي ڪنهن ڳوٺ ۾ ڪرڻ کپندو هو پر هن اقتدار جي ايوانن آڏو ڪرڻ مناسب سمجهيو. وفاقي گادي واري شهر ۾ ڊانس ڪندي هو ٻن ڏينهن بعد لاهور ۾ علامه طاهر القادري وٽ وڃي پهتو. اڳي ايئن ٿيندو هو، جو حڪومت مخالف پارٽيون ماڻهن تائين پهچڻ لاءِ شهر شهر وينديون هيون، جلسا ۽ ريليون ڪڍنديون هيون. پر هاڻي ايئن نٿو ڪيو وڃي. ماڻهن کي سياسي پارٽيون اسلام آباد گهرائي رهيون آهن ۽ اسلام آباد تي اثرانداز ٿيڻ لاءِ پنهنجو سياسي شو اتي ڪري رهيون آهن.
پيپلز پارٽي جي پنجاهين سالگرهه تي اقتدار واري شهر ۾ ڪوٺايل جلسو رڳو پيپلز پارٽي جو طاقت جو مظاهرو نه هو، بلڪه ان کان ڪجهه مٿڀرو هو. اهو صحيح آهي ته 2013ع جي چونڊن بعد اڳوڻي حڪمران جماعت پيپلز پارٽي پهريون ڀيرو هتي ايڏو وڏو ميڙاڪو ڪيو. ورنه ساڍا چار سال اسلام آباد ۽ جي ٽي روڊ تي نواز ليگ ۽ تحريڪ انصاف حاوي هيون. جيڪا سياست ٿي رهي هئي ان ۾ پيپلز پارٽي لاءِ ڄڻ ڪو ڪردار نه پئي بيٺو. پيپلز پارٽي پنهنجي سياست کي گهڻي ڀاڱي پارليامينٽ تائين محدود ڪرڻ جي ڪوشش ڪئي. ڪيترن موقعن تي رستن تي ٿيندڙ سياست کي ورائي واپس پارليامينٽ جي ايوان ۾ آندو. ان پاليسي گهڻي ڀاڱي حڪمران جماعت نواز ليگ جي مدد ڪئي. جنهن جا اڄ ڪلهه آصف علي زرداري نواز شريف کي مهڻا ڏيندو رهي ٿو. ڪجهه موقعن تي پيپلز پارٽي اڳتي اچڻ جي ڪوشش ڪئي، تڏهن پارٽي جي سنڌ اندر حڪومت جي ڪارڪردگي ۽ مٿس ڪرپشن جي الزامن سبب کيس پوئتي هٽڻو پئي پيو. پيپلز پارٽي صوبائي خودمختياري سان واڳيل معاملا ضرور کنيا پر سنڌ اندر ماڻهن کي ڪجهه رليف نه ڏئي سگهي. 2013ع جي اليڪشن ۾ جڏهن پيپلز پارٽي رڳو سنڌ تائين محدود ٿي ته ان نواز ليگ ۽ وفاقي حڪومت سان دوستاڻو رويو رکيو. پيپلز پارٽي جو خيال هو ته اها نواز ليگ جي حڪومت کي ڊاهي سگهي ٿي، ڇاڪاڻ جو اُن پارٽي جو بنياد پنجاب ۾ هو. پيپلز پارٽي کي پڪ هئي ته اوير سوير نواز ليگ ۽ اسٽيبلشمينٽ ٻکين پئجي ويندا. اها ان وقت جو انتظار ڪندي رهي ته نواز ليگ پنهنجي غلطين ۽ پنهنجي ئي ڳري وزن سبب جهڪي وڃي. دير ته لڳي پر ٿيو به ايئن، جو نواز ليگ اسٽيبلشمينٽ سان ٽڪراءَ ۾ آئي. تحريڪ انصاف جي ڌرڻن ذريعي لڳاتار حملن ۽ بعد ۾ پاناما ڪيس ۾ نواز شريف کي نااهل قرار ڏيڻ اهڙي صورتحال پيدا ڪري وڌي. ايتري قدر جو خود نواز ليگ کي بطور پارٽي منظم ۽ متحد رکڻ ڏکيو ٿي پيو. نواز شريف جي پاليسين اسٽيبلشمينٽ کي چيڙائي وڌو. ان محاذ آرائي ۾ اسٽيبلشمينٽ ۽ ٻين سگهارين ڌرين وٽ نواز شريف جي پوزيشن ڪمزور ٿي پر جمهوري عمل جاري رکڻ ۽ سويلين بالادستي جي نعري کيس عوام ۾ پذيرائي ڏني. جيتوڻيڪ ان قدم کي سڄي ملڪ جي جمهوريت پسند ڌرين قدر جي نگاهه سان پئي ڏٺو پر جيئن ته اهو فيصلو پنجاب ۽ جي ٽي روڊ تي ٿيڻو هو، ان ڪري اتي جي قبوليت اهم هئي. سمورن ٽڪرائن جي باوجود نواز شريف پنجاب ۾ مقبول رهيو. ايئن کڻي چئجي ته هو اسلام آباد ۾ ته ڪمزور پئي ٿيو، پر پنجاب تي جمهوري ۽ لبرل سوچ ۽ فڪر حاوي ٿي رهيو هو. ان تبديلي کي مجموعي طور تي ملڪ لاءِ مثبت سمجهيو پئي ويو، ڇاڪاڻ جو سٺو فيصلو تڏهن سُٺو سمجهيو ويندو، ۽ تڏهن ان تي عمل ٿي سگهندو، جڏهن پنجاب ان جي حمايت ڪندو.
ذوالفقار علي ڀٽي جي اڳواڻي ۾ پيپلز پارٽي جو پنجاب ۾ مقبول ٿيڻ يا وري بنگلادش ٺهڻ بعد باقي بچيل پاڪستان ۾ جمهوري نظام اچڻ ان جا ٻه وڏا مثال آهن. اهڙي صورت ۾ اسٽيبلشمينٽ لاءِ ضروري ٿي پيو ته اها نواز ليگ کي ۽ خود پنجاب ۾ جمهوري ۽ لبرل سوچ جي اڀري مٿي اچڻ کي روڪي. فيض آباد واري ڌرڻي توڙي بعد ۾ لاهور واري ڌرڻي کي انهيءَ پس منظر ۾ ڏسي سگهجي ٿو. انهن ڌرڻن کي جيتري ڍر ڏني وئي ۽ رياست انهن سان جيڪو حوصلا افزائي وارو سلوڪ ڪيو، ان مان ظاهر ٿيو ته پنجاب جي سياست ۾ مذهبي بيانيه کي مضبوط ڪيو پيو وڃي. نواز شريف جيئن ته جنرل ضياءَ ۽ آءِ جي آءِ جي پيداوار هو، ان ڪري سندس ووٽ بئنڪ ساڄي ڌر سان واسطو رکندڙ رهيو آهي. انهن ڌرڻن ذريعي نواز شريف جي ووٽ بئنڪ تي وار هو. اهو ئي سبب آهي جو نواز شريف پريشان آهي. ان حوالي سان پارٽي اندر به سخت دٻاءَ کي منهن ڏيئي رهيو آهي.
نواز ليگ حڪومت فيض آباد ڌرڻي کي منهن ڏيڻ لاءِ مونجهاري جو شڪار رهي. سندس اسٽيبلشمينٽ سان ٽڪراءُ هو. اوڏي مهل حڪمران جماعت سياسي ڌرين کي پاڻ سان بيهاري نه سگهي. اهڙي صورتحال ۾ هڪ خال پيدا ٿيو، جنهن کي پيپلز پارٽي پنهنجي نئين حڪمت عملي جي ذريعي ڀرڻ جي ڪوشش ڪئي آهي. ان حڪمت عملي جو اظهار پارٽي جي پنجاهين سالگره جي موقعي تي اسلام آباد ۾ ڪوٺايل جلسي ۾ آصف زرداري ڪيو. ان ريلي دوران آصف علي زرداري اهو پيغام ڏنو ته مذهبي انتهاپسندي ڏي ويندڙ سياست جي ماحول ۾ ڪو لبرل آواز به اٿاري سگهجي ٿو. ان مذهبي بيانه بابت ٻي ڪا ڌر اچڻ لاءِ تيار نه هئي. اڳوڻي صدر زرداري نواز شريف کي پنهنجي شڪست مڃڻ ۽ وقت کان اڳ چونڊون ڪرائڻ جو مشورو ڏنو. نه رڳو ايترو، پر هڪ وک اڳتي وڌي چيو ته ڪهڙي خبر نگران حڪومت تائين نواز ليگ حڪومت ۾ رهي يا نه رهي؟ ۽ اهو به ته پيپلز پارٽي نواز ليگ خلاف باقاعده مهم جو اعلان به ڪيو، جنهن جو چٽو اظهار ٻن ڏينهن بعد علامه قادري سان آصف زرداري جي ملاقات آهي. گذريل ٻن هفتن کان سياسي مارڪيٽ ۾ نگران حڪومت جون ڳالهيون ٿي رهيون هيون، جنهن جي جواب ۾ آصف علي زرداري چيو هو ته، اهو قدم آئين کان مٿڀرو ٿيندو، ڇاڪاڻ جو آئيني طور تي وزيراعظم ۽ اپوزيشن ليڊر کي نگران حڪومت لاءِ ڪنهن کي نامزد ڪرڻو آهي. ڪا ٽئين ڌر ايئن ڪري ٿي ته اهو معاملو آئين کان ٻاهر جي ڳالهه ٿيندي. ساڳي وقت آئين جي اها به تقاضا آهي ته نگران حڪومت صرف مقرر مدت ۾ چونڊون ڪرائي ان کان وڌيڪ ان جو ٻيو ڪو مينڊيٽ ڪونهي. پر پيپلز پارٽي جي تازي موقف مان پتو پوي ٿو ته ان پنهنجي حڪمت عملي تبديل ڪئي آهي. اها ڪنهن ٻئي طريقي سان به نگران حڪومت جي جوڙڻ لاءِ راضي ٿي ويئي آهي. پيپلز پارٽي گذريل هفتي نواز ليگ سان گڏ بيٺي هئي. اها هاڻي ان جي خلاف ٿي بيٺي آهي ۽ نواز ليگ مخالف ڌرين کي گڏ ڪري رهي آهي.
تجزيه نگارن جو خيال آهي ته اسٽيبلشمينٽ جا اڳوڻا سڀ اسڪرپٽ نه هلي سگهيا. عمران جو ڌرڻو هجي يا علامه قادري جو ڌرڻو، اسٽيبلشمينٽ دفاعي پوزيشن ۾ هلي وئي هئي پر مولانا خادم حسين رضوي ڪم ڪري ڏيکاريو. ماضي وارا اسڪرپٽ ان ڪري به نه هلي سگهيا، جو پيپلز پارٽي سميت مکيه سموريون سياسي پارٽيون ان کان ٻاهر هيون. آصف علي زرداري جي اسلام آباد پريڊ گرائونڊ تقرير، اتي ڪيل ڊانس ۽ پوءِ علامه قادري سان ملاقات کانپوءِ اها ڳالهه کولي ڇڏي آهي ته اسڪرپٽ ۾ ڪجهه ترميمون ڪيون ويون آهن ۽ پيپلز پارٽي ٻين ڳالهين کان علاوه ٻين ڪجهه ڌرين وانگر نٿي چاهي ته سينيٽ ۾ نواز ليگ جي اڪثريت هجي.
هتي اها ڳالهه دلچسپ آهي ته علامه قادري نوابزاده نصرالله وانگر ڪو ڪردار ادا ڪرڻ جي ڪوشش ڪري رهيو آهي. ڇا سياسي جماعتون مٿس اعتماد ڪري سگهن ٿيون؟ اهو صحيح آهي ته علامه قادري هڪ اهڙي ٻولي ڳالهائي ٿو، جنهن جو پنهنجو وجود ڪمزور آهي پر هو پيپلز پارٽي کي مذهبي ڇٽي ڏيئي سگهي ٿو. هڪ زماني ۾ بينظير ڀٽو به علامه قادري سان ٺاهه ڪيو هو ته جيئن مذهبي سياست ڪندڙ ڌريون کيس مذهبي نعري سان اڪيلو نه ڪن. موجوده حالتن ۾ علامه قادري جي اهميت ان ڪري به وڌي وڃي ٿي جو هو پيپلز پارٽي ۽ تحريڪ انصاف جي وچ ۾ رابطي ۽ پل جو ڪم ڪري سگهي ٿو.
ڪن حلقن جو خيال آهي ته نئين سال جي شروعات سان ئي ملڪ جي سياسي گرمي پد ۾ اهڙي نموني اضافو ٿي ويندو، جو سڄي ملڪ کي جام ڪيو وڃي، احتجاج ٿيڻ لڳن. ان بعد ڪونه ڪو سپريم ڪورٽ ۾ هليو ويندو ۽ ملڪ کي بحران مان ڪڍڻ لاءِ قومي حڪومت جو فارمولا سامهون اچي ويندو. ياد رهي ته سپريم ڪورٽ هن کان اڳ جنرل مشرف کي رعايت ڏئي چڪي آهي. پيپلز پارٽي جيڪڏهن اسٽيبلشمينٽ جو مناسب حد تائين اعتماد حاصل ڪري وٺي ٿي ته بجيٽ کان اڳ ڪافي تبديليون اچي سگهن ٿيون.

http://kawish.asia/Articles1/Sohail%20Sangi/2017/2017/09%20dEC%202017.htm

Labels: , , ,